فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز

198

سعید صاحب میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ کراچی کے عاشق تھے۔ اور کراچی کی ہر چیز کو دوسروں سے بہتر اور برتر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ ہم ان کے ائر کنڈیشنڈ دفتر میں پہنچے تو انہوں نے سلام کے جواب میں اپنی کراری آواز میں کہا ’’آگئے لاہور والے آگئے۔ اب تو الیاس بھائی کو ہوش نہیں رہے گا۔ لاہور والوں کو دیکھتے ہی یہ کراچی والوں کو بھول جاتے ہیں۔‘‘ الیاس صاحب ہنسنے لگے ’’بھئی لاہور والے ہمارے مہمان ہوتے ہیں ان کی خاطر تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ ‘‘’’خاطر تو کرو مگر خوشامد کیوں کرتے ہو۔ الیاس بھائی‘ کراچی کی فلم انڈسٹری کو بناؤ۔ کراچی کی انڈسٹری لاہور سے بڑھ کر ہو سکتی ہے مگر یہاں تو جو بھی تھوڑا اونچا اٹھتا ہے لاہور کا ٹکٹ کٹا کر چلا جاتا ہے۔ کیوں آفاقی صاحب تمہارے لاہور کی فلم انڈسٹری کا کیا حشر ہوگا اگر کراچی والے وہاں سے واپس آ جائیں؟ ‘‘ہم نے مناسب الفاظ میں کراچی والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور سعید صاحب خوش ہوگئے۔’’بولو کیا پیو گے؟ چائے یا کافی؟ بسکٹ بھی کھاؤ گے یا کیک منگاؤں۔‘‘ الیاس صاحب ہنسنے لگے ’’اب تم خود لاہور والوں کی خوشامد کیوں کر رہے ہو؟‘‘ ’’ارے یہ تو ہمارے مہمان ہیں۔ مہمان کے لئے تو ہماری جان بھی حاضر ہے کیوں نا آفاقی؟ ‘‘ہم نے کہا ’’فی الحال تو چائے پر گزارہ کرلیں گے۔ آپ کی جان سے زیادہ اس وقت ہمیں چائے کی ضرورت ہے۔‘‘ سعید صاحب کو اچانک یاد آیا اور وہ بولے’’ کیوں آفاقی تمہارے لاہور کی ہیروئنیں تو بہت پریشان ہوں گی۔ سنا ہے ان کی راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ ‘‘’’وہ کیوں؟ ‘‘ہم نے پوچھا ’’ارے کراچی نے پھر ایک نئی ہیروئن پیش کی ہے۔ بولو زیبا کا کوئی جواب ہے تمہارے لاہور میں؟ ‘‘’’کون زیبا‘‘ ہم نے معصومیت سے پوچھا۔ ’’ارے زیبا کو نہیں جانتے؟ کیسے جرنلسٹ ہو۔ اے ون ہیروئین ہے۔ تم دیکھ لینا لاہور کی سب ہیروئنوں سے آگے نکل جائے گی۔ یہ تمہاری مسرت وسرت‘ رانی پانی سب منہ دیکھتی رہ جائیں گی۔ ‘‘ہم نے انہیں چھیڑا ’’سعید صاحب صبیحہ کا کوئی جواب ہے آپ کے پاس؟‘‘ وہ سٹپٹا گئے ’’ٹھیک ہے صبیحہ کے علاوہ اور کیا ہے تمہارے پاس۔ ارے ہم نے تمہیں نیّر سلطانہ دے دی ہے۔ پھر رانی بھی تو کراچی سے ہی گئی ہے۔ ‘‘پھر انہوں نے الیاس صاحب کو مخاطب کیا ’’الیاس بھائی زیبا کو کراچی سے لاہور مت جانے دینا۔ ہمیں کراچی کی انڈسٹری کے لئے بھی تو آرٹسٹوں کی ضرورت ہے۔‘‘ الیاس صاحب نے کہا ’’سعید سیٹھ آرٹسٹ بے چارے کراچی میں رہ کر کیا کریں گے۔ پہلے یہاں فلم انڈسٹری تو بناؤ۔ پروڈیوسروں کو سہولتیں دو گے تو وہ لاہور چھوڑ کر کراچی آ جائیں گے۔‘‘ یہ سعید صاحب کا کمزور پہلو تھا۔ بولے ’’ساری سہولتیں تو دیتے ہیں انہیں۔ بس فلم ہی تو ادھار نہیں دیتے خیر الیاس بھائی میرا ایک کام کر دو۔ زیبا سے میری ایک فلم سائن کرا دو۔‘‘ ’’تم خود کر لو‘‘ ’’بھئی آپ اس کے انچارج ہیں۔ گاڈ فادر بنے بیٹھے ہیں ۔آپ کی ہر بات وہ مانتی ہے۔ کراچی کے فلم سازوں کے ساتھ تو اسے خاص رعایت کرنی چاہئے۔ وہ بھی تو کراچی کی ہے۔ کراچی والوں کا اس پر پہلا حق ہے۔‘‘ اس پر الیاس بھائی نے ہمیں ایک لطیفہ سنایا جو ہمیں آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے۔ ہوا یہ کہ سعید ہارون دو فلموں کے لئے زیبا سے معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے الیاس بھائی کی خدمات حاصل کی گئیں اور زیبا اور ان کی والدہ کو لے کر سعید صاحب کے دفتر میں پہنچ گئے۔ سعید صاحب نے ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور بہت غور سے زیبا کو دیکھتے رہے۔ یہ حقیقی زندگی میں ان کی زیبا سے پہلی ملاقات تھی۔ زیبا کو انہوں نے اپنی دو فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ جب معاہدے کی بات شروع ہوئی تو لالی جی نے ایک فلم کا معاوضہ دس ہزار روپے طلب کیا۔ ’’دس ہزار!‘‘ سعید صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ’’مگر آپ نے فلاں فلمساز کی فلم پانچ ہزار میں سائن کی ہے‘‘ لالی جی نے اطمینان سے جواب دیا ’’سعید صاحب فلم کا معاوضہ تو آپ سے بھی پانچ ہزار ہی لوں گی۔‘‘ ’’تو پھر باقی پانچ ہزار‘‘؟’’پانچ ہزار گھورنے کا معاوضہ‘‘ سعید صاحب نے حیرت سے لالی جی کو اور پھر الیاس رشیدی صاحب کو دیکھا۔ لالی جی بولیں ’’سعید صاحب جب سے زیبا کمرے میں آئی ہے۔ آپ اسے گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کی فلم میں کام کیا تو آپ تو میری بچی کو گھور گھور کر آدھا کر دیں گے۔ اس لئے پانچ ہزار روپے فلم میں کام کرنے کا معاوضہ ہے اور پانچ ہزار گھورنے کا۔‘‘ یہ لطیفہ سننے کے بعد سعید صاحب نے صفائی پیش کی ’’ارے بھئی کسی نئی لڑکی کو ہیروئن سائن کروں گا تو دیکھ بھال نہیں کروں گا؟ اس کا اچھّی طرح جائزہ نہیں لوں گا؟ آفاقی، بات یہ ہے کہ الیاس صاحب نے ابھی سے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو الزبتھ ٹیلر سمجھنے لگی ہے۔ ‘‘اسی رات ہم الیاس صاحب کے ساتھ موٹر رکشا میں سوار ہو کر ناظم آباد میں زیبا کے گھر پہنچ گئے۔ وہ ایک کرائے کے مکان کے بالائی حصے میں رہتی تھیں۔ گھر کو سلیقے سے سجایا گیا تھا۔ ڈرائنگ روم اور ڈائننگ روم کی سجاوٹ سادہ مگر خوب صورت تھی۔ ان کے گھر گئے تو محسوس ہی نہیں ہوا کہ ہم کسی فلم آرٹسٹ کے گھر میںآئے ہیں۔ زیبا سادہ لباس میں میک اپ کے بغیر ہمارے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔ ان کی والدہ لالی جی بھی کچھ دیر بعد تشریف لے آئیں۔ ان کی ایک کزن بھی اس زمانے میں ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ کھانے کا اہتمام ان ہی کی ذمہ داری تھا۔ زیبا کبھی کبھی اٹھ کر ایک پھیرا باورچی خانے کا لگالیتی تھی جب وہ چوتھی بار کچن سے ہو کر آئیں تو ہم نے پوچھا ’’ کیا گل گیا؟‘‘
انہوں نے بے خیالی میں پوچھا ’’کیا؟‘‘
ہم نے کہا ’’گوشت‘‘
وہ ہنسنے لگیں ’’گوشت تو گل گیا مگر دال گلنی مشکل ہے۔‘‘
ہم اسی وقت جان گئے کہ زیبا کو اردو زبان سے پوری طرح واقفیت ہے اور وہ حاضر جواب بھی ہیں۔
زیبا بے حد شگفتہ مزاج‘ حاضر جواب اور فقرہ باز نکلیں۔ الیاس رشیدی صاحب کے علاوہ طفیل احمد جمالی صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جمالی صاحب اس زمانے میں ’’انجام‘‘ کراچی کے ایڈیٹر تھے۔ بے حد ذہین‘ پڑھے لکھیّ اور باشعور انسان تھے۔ شاعر بھی بے بدل‘ نثر پر بھی انہیں پوری طرح عبور حاصل تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حد سے زیادہ حاضر جواب اور فقرے بازی میں طاق‘ وہ جوانی ہی میں وفات پا گئے لیکن جب تک زندہ رہے اپنی قابلیت اور ذہانت کے چراغ جلائے رکھے۔ وہ الیاس رشیدی صاحب کے قریبی اور بے تکلّف دوستوں میں تھے۔ جب کبھی ہم کراچی جاتے تو وہ اور ابراہیم جلیس صاحب بھی ہر روز ہی ’’نگار‘‘ کے دفترمیں پائے جاتے۔ الیاس بھائی اپنے کام کاج اور مختلف لوگوں کو ڈانٹنے میں مصروف رہتے اور ہم لوگ گپ شپ اور لطیفہ بازی میں لگے ر ہتے۔ جب شام کو وہ دفتر سے فراغت پاتے تو ہم سب کسی تقریب کا رخ کرتے یا پھر ہم جس ہوٹل میں قیام پذیر ہوتے تھے۔ وہاں محفل جم جاتی جو رات گئے تک جاری رہتی۔ صحافی‘ فلم والے اور دوسرے لوگ بھی اکٹّھے ہو جاتے تھے۔ لاہور سے کراچی آئے ہوئے حضرات کراچی کے صحافی‘ ادیب اور شاعر فلم سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں سے وابستہ اصحاب اور بے تکلّف دوست یکجا ہوتے تو بہت پُرلطف محفلیں آراستہ ہوا کرتی تھیں۔ وہ بھی خوب دن تھے۔ اب توشاید وہ زمانے کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ زمانہ آگے کی طرف گامزن ہوتا ہے اسے کیا پڑی ہے کہ پیچھے کی طرف لوٹ جائے، ہماری آپ کی خواہش سے کیا ہوتا ہے۔ جمالی صاحب بہت ہنسوڑ اور دلچسپ آدمی تھے۔ بڑے بڑے شوخ گفتار اور حاضر جواب لوگوں کو لاجواب کر دیا کرتے تھے اور کیوں نہ ہوتا۔ ایک تو ذہن رسا‘ دوسرے مطالعہ‘ تیسرے علما و ادباء کی صحبتیں۔ ابراہیم جلیس اور ابن انشاء جیسے لوگوں سے دن رات کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ انہیں دو آتشہ تو ہوناہی تھا۔ جمالی صاحب نے ایک دو فلموں کے مکالمے اور چند فلموں کے گانے بھی لکھے مگر طبعیت میں لاابالی پن تھا۔ کسی قسم کی پابندی یا روک ٹوک وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ کاہل بھی تھے، ضرورت سے زیادہ کام کرنے کو وقت کا زیاں خیال کرتے تھے۔ سادہ باعزت زندگی گزارنے کے لئے جتنا کچھ ضروری تھا اس کے حصول کے بعد وہ پیسہ کمانے کی ہر کوشش کو فضول سمجھتے تھے۔ نہایت مخلص‘ بے ریا اور بے لوث انسان تھے۔ کسی کو تکلیف اور دکھ میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ شاید ان کے بھی کچھ مسائل ہوں گے مگر انہیں دیکھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے انہیں کبھی اداس اور متفکّر نہیں دیکھا ۔جب دیکھا قہقہے لگاتے اور لطیفے سناتے ہوئے دیکھا۔ ہنسنا ہنسانا ہی ان کا معمول تھا۔ شاید اس زمانے میں یہ بھی ایک رواج تھا۔
جمالی صاحب کے دو اصول ایسے تھے جن پر وہ بڑی سختی سے عمل پیرا تھے۔ وہ سفید قمیض یا بو شرٹ کے سوا کسی رنگ کی قمیض زیب تن کرنا خلاف وضع خیال کرتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی ہم نے ا ن کے جسم پر سفید قمیض ہی دیکھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد رنگین قمیض کیوں پہنتے ہیں۔ رنگین لباس تو خواتین ہی کو زیب دیتا ہے اور پھر سفید رنگ میں جو وقار‘ سادگی اور شان ہے وہ کسی اور رنگ میں کہاں۔
ہم نے کہا’’ مگر جمالی صاحب سفید تو کوئی رنگ ہی نہیں ہوتا۔‘‘
بولے ’’یار سنی سنائی باتوں پر قابلیت نہ جھاڑا کرو۔ سفید بھی توایک رنگ ہی ہے۔ سفید رنگ کی دیوار‘ سفید رنگ کا لباس‘ جس طرح سیاہ بھی ایک رنگ ہے۔ اگر آپ کو کمرے میں سفید رنگ کرانا ہو تو کیا کہیں گے یہی نا کہ سفید رنگ کر دو۔ ‘‘
’’جی نہیں صرف اتنا کہیں گے کہ سفیدی کر دو‘‘
’’سفیدی تو ایک اصطلاح ہے ‘‘وہ کہاں ہار ماننے و الے تھے ’’اگرآپ کو چونے والی سفیدی کے علاوہ سفید پینٹ کرانا ہو تو کیا کہیں گے۔ یہی نا کہ کمرے میں سفید رنگ کا پینٹ کر دو۔ ‘‘
’’جی نہیں ہم یہ کہیں گے کہ کمرے میں سفید پینٹ کر دو۔ ‘‘
’’یار کج بحثی تو تم پر ختم ہے۔ ‘‘وہ ہنسنے لگے۔
’’اوراپنے بارے میں کیا خیال ہے‘‘ ہم پوچھتے
’’خیر ہماری تو یہ پہچان ہے۔‘‘
جمالی صاحب کے ساتھ نوک جھونک ہر وقت جاری رہتی تھی۔
ذکر زیبا کا ہو رہا تھا۔ زیبا کی گفتگو سن کر ہم سب بہت حیران ہوئے۔ انہیں زبان وبیان پر پوری طرح عبور حاصل تھا۔
جمالی صاحب کہاں ہار ماننے والے تھے کہنے لگے بھئی کیوں نہ ہو ’’آخر اہل زبان ہے۔‘‘
زیبا نے بھولے پن سے پوچھا ’’آپ کی مراد ہے یوپی یا دہلی کی رہنے والی ہوں؟‘‘
’’اور کیا؟ تمہاری زبان ہی یہ چغلی کھا رہی ہے۔‘‘
زیبا بولی ’’جمالی صاحب معاف کیجئے چغلیوں پر بھروسا نہ کیا کیجئے۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے میری والدہ پٹیالہ کی رہنے والی ہیں۔‘‘
ہم سب حیران رہ گئے ’’بھئی کمال ہے سکّھوں کی سرزمین میں رہ کر اتنی اچھّی اردو؟‘‘
’’یہ میں نے کراچی میں آپ جیسے اہل زبان لوگوں سے سیکھی ہے۔‘‘
لالی جی اس نوک جھونک پر ہنستی رہیں۔ وہ کم بولتی تھیں۔ زیادہ تر سنتی اور ہنستی ہی رہتی تھیں۔ ایک بار ابراہیم جلیس نے ان سے کہا تھا ’’لالی جی ایمان سے آپ بہت بڑی فنکارہ ہیں۔‘‘
وہ حیرت سے کہنے لگیں ’’میں کب فنکارہ ہوں۔ آرٹسٹ تو میری بیٹی ہے۔‘‘
جلیس صاحب نے کہا ’’اگرآ پ نہ ہوتیں تو یہ بیٹی کہاں سے آ تی؟‘‘
پھر انہوں نے ایک لطیفہ سنایا کہ ہالی ووڈ کی ایک بہت شاندار تقریب میں ایک نقّاد کا تعارف بہت بڑی فنکارہ سے کرایا گیا۔’’ یہ بہت بڑی آرٹسٹ ہیں۔ جنہوں نے فلاں فلم میں آسکر ایوارڈ حاصل کیا‘‘۔
نقّاد نے فنکارہ سے ہاتھ ملایا۔
’’اور ان سے ملئے یہ ان سے بھی بڑی آرٹسٹ ہیں۔‘‘ اس بار ان کا تعارف ایک بڑی عمر کی خاتون سے کرایا گیا۔
پوچھا گیا ’’انہوں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟‘‘
جواب ملا ’’انہوں نے آسکر حاصل کرنے والی آرٹسٹ کو جنم دیا ہے۔ ان کے بغیر وہ کہاں ہوتیں؟‘‘
زیبا سے سرسری ملاقات تو سٹوڈیو میں بھی ہوئی تھی مگر ان کے گھر پر قدرے تفصیل سے گفتگو ہوئی تو ان کے جوہر ہم پر کھل گئے۔
(جاری ہے )
(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here