میاں صاحب، داغ اتنے بھی اچھے نہیں ہوتے۔تحریر:نعیم الحسن

423

یہ 27 نومبر 1997 کی بات ہے جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں بنچ دوسری بار وزیر اعظم بنے نواز شریف کے خلاف تو ہین عدالت کیس کی سماعت کر رہا تھا اور ڈیفینس لائر ایس ایم ظفر دلائل دے رہے تھے۔ یکا یک غل برپا ہوا اور سینکڑوں لیگی ورکرز یوتھ ونگ اور ایم ایس ایف کے لوگ سردار نسیم، مشتاق خلیل اور طارق عزیز کی سرپرستی میں سپریم کورٹ کی سیکیورٹی توڑتے ہوئے اندر داخل ہونے لگے۔ ایک صحافی جو ساری صورتحال دیکھ رہا تھا دوڑتا ہوا کمرہ عدالت میں آیا اور بنچ کو حملے کے بارے میں آگاہ کیا۔ سجاد علی شاہ سمیت پورا بنچ فوری اٹھا، سماعت ملتوی کی اور چلتا بنا۔ جونہی بنچ کمرہ عدالت سے باہر نکلا لیگی سپورٹر چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی کرتے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔

بات یہاں تک اتنی آسانی سے نہیں پہنچی تھی۔ اس سے پہلے بھی صورت حال کافی سنجیدہ اور سنگین رہی تھی۔ نواز شریف سجاد علی شاہ کو ناپسند کرتے تھی اور ان سے فوری چھٹکارا چاہتے تھے۔ دراصل اس ٹسل کا آغاز ہوتا ہے 1993 میں جب صدر غلام اسحاق خان کی معذول کی ہوئی حکومت کو عدالت بحال کرتی ہے اور گیارہ رکنی بنچ میں سے ایک جج سجاد علی شاہ اختلافی نوٹ دیتے ہیں۔ 1993 سے گرما گرمی چلتے ہوئے یہ معاملہ 1997 تک چلا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بیٹے اور نواز شریف کی سابقہ کیبنٹ کے منسٹر گوہر ایوب اپنی کتاب، ‘Glimpses of the corridors of power’ میں اس کے بعد کی کہانی لکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 5 نومبر 1997 کو انہیں نواز شریف کی کال موصول ہوئی اور انہیں قومی اسمبلی کے چیمبر میں بلایا گیا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں Privilegeکمیٹی کے ممبران نوابزادہ اقبال مہدی وغیرہ بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے صدر پریویلج کمیٹی کو کہا کہ گوہر ایوب کو صورت حال سمجھائیں۔ صدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس کو پریویلج کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا جائے تو جواب میں میں نے کہا کہ اس طرح کے سخت اقدام کے لیے قوانین موجود نہیں۔ آپ چیف جسٹس کوسمن بھجوانے کی غلطی مت کریں۔ گوہر ایوب اپنی یادداشت میں مزید لکھتے ہیں کہ جب میٹنگ ختم ہوئی تو وزیراعظم نے انہیں اپنی گاڑی میں وزیراعظم ہاؤس تک چلنے کو کہا۔ گاڑی میں نواز شریف نے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ “گوہر صاحب کوئی ایسا راستہ دکھائیں کہ چیف جسٹس کو گرفتار کیا جا سکے اور اسے ایک رات جیل میں بند کیا جا سکے”۔ گوہر ایوب گو کہ ایک ملٹری ڈکٹیٹر کے بیٹے تھے، اس کے باوجود انہیں اس بات سے دھچکا لگا اور انہوں نے نواز شریف کو اس سوچ سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

گوہر ایوب نے مشورہ تو دے دیا لیکن میاں صاحب اس سوچ سے دور نہ رہ سکے اور بیس دن کے بعد ہی سپریم کورٹ پر حملہ ہو گیا اور یہ داغ ہمیشہ کے لیے مسلم لیگ ن کے دامن پر لگ گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔

1997 سے 2017 تک بیس سال گزر گئے، کئی حکومتیں، ججز، جرنیل آئے اور چلے گئے لیکن جسٹس سجاد کے بعد جنرل کرامت، جنرل مشرف، جنرل ضیا الدین بٹ اور پھر ڈان لیکس سے لگتا ہے کہ جس سوچ سے گوہر ایوب نے انہیں دور رہنے کا مشورہ دیا تھا شاید میاں صاحب کی وہ سوچ تبدیل نہیں ہوئی۔ پانامہ کا مسئلہ ہی لے لیجیے۔ پانامہ سکینڈل کے بعد قوم سے خطاب میں میاں صاحب نے خود اپنے آپ اور اپنے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیا اور پھر قومی اسمبلی کے فلور پر کہا کہ یہ ہیں وہ ذرائع اور الزامات ثابت ہو گئے تو گھر چلا جاؤں گا جیسی باتیں کی، حتیٰ کہ جے آئی ٹی بننے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں لیکن جب فیصلہ خلاف آیا تو معزز سپریم کورٹ کا نام جپنے والے اور یو سف رضا گیلانی کو کورٹ آرڈر کے احترام کی تلقین کرنے والے میاں صاحب کو یہ احتساب کی جگہ استحصال لگنے لگا اور یکا یک یہ فیصلہ جمہوریت کے خلاف لگنے لگا۔

میاں صاحب کی یہ بات درست کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے گزارش ہے کہ آپ خود جمہوریت کو مضبوط کریں اور اداروں کو توانائی بخشیں نہ کہ سڑکوں پر چیخ چیخ کر کہیں کہ عدالت کے پانچ اشخاص نے بیک جنبشِ قلم نواز شریف کو نہیں بیس کروڑ عوام کو نااہل کر دیا۔ میاں صاحب اگر آپ جرنیلوں، سیاستدانوں اور ججز سب کا احتساب چاہتے ہیں تو پھر قانونی اور جمہوری کوشش کرتے ہوئے سپریم کورٹ جیسے ادارے کو مضبوط کریں نہ کہ سڑکوں پر چینختے چلاتے خود کو بھٹو سے ملاتے اپنے احتساب کو استحصال کا نام دیتے ہوئے عام آدمی کا یقین بھی سپریم کورٹ سے متزلزل کریں۔

خدارا گوہر ایوب کے بیس سال پرانے مشورے پر عمل کریں اور اس سوچ سے دور رہیں ورنہ یہ نہ ہو کہ جس پارٹی نے جمہوریت کے لیے بے پناہ جدو جہد کی ہے اس پارٹی پر 27 نومبر 1997 جیسا ایک اور داغ لگ جائے، کیونکہ ‘داغ اتنے بھی اچھے نہیں ہوتے’۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here