انٹرنیشنل اسٹارز کی کہکشاں پاکستان میں جگمگانے کو تیار

196

آزادی کپ سیریز کیلیے انٹرنیشنل اسٹارز سے مزین ورلڈ الیون کی لاہور آمد پیر کو الصبح شیڈول ہے، مہمان ٹیم کی قیادت فاف ڈوپلیسی کررہے ہیں، دیگرکرکٹرز میں ہاشم آملا، سیموئل بدری، جارج بیلی، پال کولنگ ووڈ، بین کٹنگ، گرانٹ ایلوئٹ، تمیم اقبال، ڈیوڈ ملر، مورن مورکل، ٹم پین، تھشارا پریرا، ڈیرن سیمی اورعمران طاہر شامل ہیں۔آئی سی سی ٹاسک فورس برائے پاکستان کے سربراہ جائلز کلارک اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی پیر کو 11بجے لاہور کے مقامی ہوٹل پریس کانفرنس کریں گے، بعد ازاں مہمان ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی اور کوچ اینڈی فلاور بھی میڈیا کے روبرو ہونگے، دونوں ٹیمیں شام 5 سے 8 بجے تک قذافی اسٹیڈیم میں پریکٹس کریں گی، فاف ڈوپلیسی اور سرفراز احمد ٹرافی کی رونمائی کرینگے، میزبان کپتان اور ورلڈ الیون کے لیگ اسپنرعمران طاہرمیچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کیلیے موجود ہونگے۔12، 13 اور 15ستمبر کو تینوں میچز کے بعد دونوں ٹیمیں کے کھلاڑی میڈیا کے سوالوں کے جواب دینگے، ہر مقابلہ روزانہ 7بجے شروع ہوگا، سیریز کے اختتامی میچ کے بعد مہمان ٹیم کے کپتان اورکوچ جبکہ پاکستان کے کوچ یا کھلاڑی میڈیا سے بات کرینگے، 16 ستمبر کو آئی سی سی اورپی سی بی کے آفیشلزمشترکہ پریس کانفرنس کرینگے، اسی روز مہمان ٹیم واپس دبئی روانہ ہو جائے گی۔ہاشم آملا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی صرف اس کھیل کیلیے نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کیلیے بھی اہم ہے، ورلڈ الیون کے اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑی اس ایونٹ کا حصہ بننے کیلیے پرجوش ہیں،ایک بڑا مقصد پیش نظر ہونے کی وجہ سے کسی بھی پلیئرکواس ٹورکیلیے قائل کرنے میں دقت نہیں ہوئی، میرا گزشتہ دورہ پاکستان بہت خوشگوار رہا،شائقین نے بہت سپورٹ کی، ماحول بہت اچھا تھا، دوبارہ پاکستان جانا میرے لیے باعث مسرت ہے۔بنگلادیشی اوپنر تمیم اقبال نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ فیملی کا حصہ ہے اور ہم اس کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلیے مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور نے کہا ’’پاکستان کے حوالے سے میری بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں، اس ملک کے لوگوں سے میرا اچھا تعلق رہا ہے۔‘‘قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون کیخلاف تینوں میچ جیتنے کیلیے میدان میں اتریں گے، انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی اسٹارز سے مزین مہمان اسکواڈ خاصا مضبوط ہے، کسی میچ کو آسان نہیں لے رہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلیے بہترین ٹیم تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، اس کیلیے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ موقع دینا چاہتے ہیں، انٹرنیشنل کرکٹرز کے مقابل کھیل کر ان کی صلاحیتوں کی پرکھ ہوگی، پتہ چلے گا کہ وہ دباؤ میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں اور مستقبل میں ان کی صلاحیتوں سے کس طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ محرومی کا شکار ملک میں انٹرنیشنل کرکٹرز کا آنا بڑا خوش آئند ہے، سیریز سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحالی کیلیے مزید راستے کھلیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہوم گراؤنڈز پر کھیلنے سے ہمیشہ نوجوان کھلاڑیوں کو فائدہ ہوتا ہے، مستقبل کیلیے اچھی کھیپ تیار کرنے میں ہوم سیریز اہم کردار اداکرتی ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کے پاس موقع ہے کہ ورلڈ الیون کیخلاف اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک میں موجود اپنے پرستاروں سے داد سمیٹیں

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here