دو گھنٹوں کی ملاقات نے عمر بھر پیاسا رکھا

میں ان دنوں میٹرک کے امتحانات دے کر گاؤں سے تازہ تازہ اسلام آباد میں وارد ہوا تھا۔ فراغت ہی فراغت تھی، اس لیے شہر بھر میں پیدل پھرنا سب سے من بھاتا مشغلہ ٹھہرا۔ شکرپڑیاں سے فیصل مسجد اور فیصل مسجد سے سپر مارکیٹ اور سپر مارکیٹ سے میلوڈی، میلوڈی سے پشاور موڑ، اس دوران سیکٹر کے سیکٹر یوں چھان لیے کہ اسلام آباد کی منصوبہ بندی کرنے والی ترک کمپنی کونستینتینوس اپوستولوس دوکسیادوس کے ماہرینِ تعمیرات بھی رشک کریں۔انھی آوارہ گردیوں کے دوران ایک دن سہ پہر کو میں سپر مارکیٹ کے قریب ایک گلی میں جا نکلا۔ دروازے پر صادقین گیلری کا بورڈ نظر آیا تو قدم وہیں ٹھٹک کر رک گئے۔مجھ پر اس زمانے میں صادقین کی خطاطی کا بھوت سوار تھا اور میں ان کے ایجاد کردہ خطِ صادقینی پر ہاتھ صاف کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا، بلکہ بزعمِ خود اس میں خاصی حد تک مہارت بھی حاصل کر چکا تھا۔اندر جاؤں یا نہ جاؤں؟’ تھوڑی دیر تو اسی شش و پنج میں گزرے، بالآخر اشتیاق جھجک پر غالب آیا اور میں مکان میں داخل ہو گیا۔ دروازے کھلے تھے۔ میں پورچ سے گزر کر ایک بڑے کمرے میں آ نکلا تو وہ منظر دیکھا جو آج بھی ذہن کے پردے پر ہوبہو کھدا ہوا ہے۔میرے سامنے صادقین، میرے اساطیری ہیرو صادقین، بذاتِ خود وسیع کمرے کے فرش پر بچھے قالین جتنے بڑے کینوس پر رنگ آمیزی کر رہے تھے۔ کھچڑی بال بری طرح سے الجھے ہوئے، ہونٹوں پر ایک سگریٹ جس کی راکھ کسی بھی وقت کینوس پر گر سکتی تھی اور وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر اکڑوں بیٹھے برش ہاتھ میں لیے قرآنی آیات لکھے چلے جا رہے تھے۔ ایک طرف چائے کی پیالی دھری تھی، لیکن صادقین نے شاید اسے چھوا تک نہیں تھا۔میں نے صادقین کو اس لیے فوراً پہچان لیا کہ کچھ عرصہ قبل انھیں نیلام گھر میں دیکھا تھا جہاں انھوں نے طارق عزیزکو اپنا دایاں ہاتھ بلند کر کے دکھایا تھا کہ وہ کیسے سالہاسال سے آیات کی خطاطی کرتے کرتے لفظ اللہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ بات میرے لیے جادوئی تھی، کوہِ قافوی تھی، عام دنیا کی سطح سے اٹھ کر کسی اور ہی عالم کی داستان تھی۔صادقین کو نیلام گھر میں دیکھ کر مجھ پر بھی انھی جیسی خطاطی کرنے کا خبط طاری ہو گیا۔ جھٹ گاؤں کے ایک ہارڈویئر سٹور سے روغن کے چھوٹے چھوٹے ڈبے اور چند برش خرید لایا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کینوس دستیاب نہیں تھا۔ خوش قسمتی سے انھی دنوں گھر کی مرمت کا کام جاری تھا اور مستریوں سے چھت میں لگنے والے ہارڈ بورڈ کے کچھ ٹکڑے بچ گئے تھے۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے انھی ٹکڑوں کو بروئے کار لا کر ان پر خطِ صادقینی میں رنگ آمیزی شروع کر دی۔ یہ الگ بات کہ یہ سارا کام والد صاحب کی آنکھ بچا کر کیا جاتا تھا کیوں کہ وہ پہلے ہی جھاڑ پلا چکے تھے کہ پڑھائی پر دھیان دو۔اب وہی افسانوی صادقین مجھ سے چند فٹ دور میری آمد سے یکسر بےخبر اپنے کام میں مگن تھے۔ ویسے تو ان کا انہماک خاصا گہرا تھا لیکن پھر بھی مجھے دھڑکا تھا کہ اگر انھوں نے کینوس سے سر اٹھا کر مجھے دیکھ لیا تو کہیں برا نہ منا جائیں، اس لیے میں کونے سے لگا بےحس و حرکت کھڑا رہا کہ انھیں میری موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔اس دوران ایک شخص، غالباً ان کا نوکر، چائے کی پیالی لیے کمرے میں داخل ہوا اور پہلی پیالی اٹھا کر اس کی جگہ رکھ کر واپس مڑ گیا۔ جاتے جاتے اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ شاید وہ سے کچھ کہنا چاہتا ہو کہ ‘تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟’ لیکن شاید صادقین کی محویت میں خلل پڑنے کے خوف سے کچھ بولے بغیر اندر چلا گیا اور پہلی والی صورتِ حال دوبارہ قائم ہو گئی، یعنی صادقین فرش پر اکڑوں بیٹھے، سر جھکائے مشینی انداز میں کام کرتے ہوئے اور میں دیوار کے ساتھ دیوار پر لگی تصویر کی طرح ساکت۔معلوم نہیں آدھا گھنٹہ گزرا کہ پونا، اچانک باہر سے شور برپا ہوا اور چار پانچ لوگ کمرے میں گھس آئے۔ صادقین نے انھیں حیرت سے دیکھا جیسے کسی سوتے ہوئے کی آنکھوں میں اچانک ٹارچ کی روشنی کی دھار پڑے۔ سب نوواردان بیک وقت بول رہے تھے اور صادقین سیاہ رنگ سے لبریز موقلم ہاتھ میں تھامے آنکھیں پٹپٹا کر انھیں یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہ لوگ کسی جناتی زبان میں گفتگو کر رہے ہوں اور صادقین اس کے ایک حرف سے بھی واقف نہ ہوں۔تین چار بار دہرانے سے مجھے جو معلوم ہوا اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ نیشنل آرٹ سینٹر میں منصور راہی کی تصاویر کی نمائش ہو رہی ہے، اس کے افتتاح کے لیے وزیرِ چنیں کو بلایا گیا تھا لیکن وہ مصروفیاتِ کارِ سلطنت میں کچھ ایسے الجھے کہ ان کا آنا ممکن نہیں اور اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ صادقین اس نمائش کا افتتاح کریں۔صادقین کے منھ سے کچھ ہوں ہاں نکلا جس کا مطلب ان لوگوں نے رضامندی لیا اور ان میں سے کوئی لپک کر اندر سے ایک سیاہ شیروانی اٹھا لایا جو وہیں کی وہیں جیسے تیسے صادقین کو اوڑھا دی گئی اور یہ قافلہ صادقین کو اپنے جلو میں لیے باہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ میں ان کے پیچھے پیچھے تھا۔معلوم ہوا کہ نیشنل آرٹ سینٹر صرف ایک گھر کے فاصلے پر ہے اور اس کے شاداب لان میں درجنوں آرٹ کے شیدائی کسی مہمانِ خصوصی کے انتظار میں ادھر ادھر گھوم پھر رہے ہیں۔صادقین کی آمد پر تالیاں بجیں اور انھیں چلا کر ایک کونے میں نصب مائیک کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ اب صادقین کا حلیہ ملاحظہ ہو۔ شیو کئی دن کی بڑھی ہوئی، انگلیاں سیاہ رنگ سے لتھڑی ہوئی، قمیض تو کہیں شیروانی کے اندر گم ہے، لیکن پاجامہ، جو کبھی سفید رہا ہو گا، اب مٹیالا ہو گیا ہے اور اس پر جگہ جگہ رنگوں کے دھبے عجب دکھلا رہے ہیں۔ اور صادقین عالمِ حیرت سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔سامنے لان میں معطر ساڑھیاں اور بیش قیمت تھری پیس سوٹ ٹکٹکی باندھے سٹیج کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجال ہے کہ صاحبِ صدر نے منھ سے ایک لفظ بھی بول کر دیا ہو۔ کئی منٹ اسی عالمِ سکوت میں بیت گئے۔ پھر ایک صاحب بھاگے بھاگے صادقین کے پاس گئے اور ان کے کان میں کچھ کہا۔ صادقین نے مائیک کو تھپتھپا کر دیکھا اور جب اس میں سے آواز آئی تو تھوڑا چونک سے گئے، پھر کچھ کہنے کے لیے ہونٹ کھولے لیکن صرف کھانس کھونس کر رہ گئے۔وہی سوٹڈ بوٹڈ صاحب دوبارہ مائیک کے پاس گئے اور لوگوں سے مختصر خطاب کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نمائش کا باضابطہ افتتاح ہو چکا ہے اس لیے سب لوگ عمارت کے اندر تشریف لے جائیں اور منصور راہی کے فن سے لطف اندوز ہوں، اور اس کے بعد لذتِ کام و دہن کا بھی اہتمام ہو گا۔اسی دوران سلیٹی سوٹ پہنے ہوئے اور تقریباً اسی رنگت والے کسی قدر چھوٹے قد والے منصور راہی نمودار ہوئے اور صادقین صاحب کو لے کر اندر کی طرف چلے۔ اب تک آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کہاں تھا، یعنی ان دونوں کے پیچھے پیچھے۔منصور راہی صاحب کو بھی ویسے ہی پہچانا جیسے صادقین کو، یعنی ٹیلی ویژن کی مدد سے۔ وہ اس زمانے میں پی ٹی وی کے مارننگ شو میں پینٹنگ کا فن سکھایا کرتے تھے اور دھیمی آواز اوربنگالی لہجے میں اردو بولتے بہت اچھے لگتے تھے۔اب منصور راہی صادقین کو گیلری میں نصب ایک ایک پینٹنگ دکھاتے اور اس کے باریک نکات کی وضاحت کرتے پھر رہے ہیں، کیوبزم، سریئلزم، ایکسپریشنزم، پوسٹ ماڈرنزم، وجودیت، انسانیت، وغیرہ وغیرہ، صادقین بدستور صم بکم، اور خاکسار چار فٹ کی دوری پر پخ کی طرح ساتھ ساتھ۔چلتے چلتے صادقین ایک لمبی چوڑی پینٹنگ کے سامنے رک گئے۔ منصو ر راہی نے اشتیاق سے ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ خاصی دیر کینوس کو تکتے رہے۔ یہ رنگوں سے عاری، تقریباً بلیک اینڈ وائٹ تجریدی نماپینٹنگ تھی جس کے اندر ڈبوں ڈبوں میں کچھ بنا ہوا تھا۔ آخر صادقین نے ایک فقرہ کہا۔ یہ پچھلے دو گھنٹے میں ان کی زبان سے نکلنے والے پہلے بامعنی الفاظ تھے۔ انھوں نے پینٹنگ کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منصور راہی سے پوچھا: ‘یہ اتنا چوڑا برش کہاں سے لیا تھا؟’اتنے برسوں کے فاصلے بعد مجھے یاد نہیں رہا کہ منصور راہی نے کیا جواب دیا۔ ویسے بھی صبح کا گھر سے نکلا ہوا تھا اور بھوک سے برا حال ہو رہا تھا اس لیے میں مصور اور مہمانِ خصوصی کو وہیں چھوڑ کر باہر لان میں لگی سموسوں اور کیکوں کی میزوں کی طرف کھسک لیا۔اس واقعے کے دو برس بعد میرے بھائی کے ایک رفیقِ کار ہمارے گھر آئے۔ جب انھوں نے ڈرائنگ روم کی دیوار پر ٹنگے میرے’صادقینی’ فن پارے دیکھے اور میری زبانی مذکورہ بالا واقعہ سنا تو کہنے لگے کہ ‘صادقین میرے رشتہ دار ہیں، میں آپ کو ان سے ملوانے چلوں گا، اور ہو سکتا ہے آپ کی اس درجہ پرستاری کا درجہ دیکھ کر وہ آپ کو اپنی خطاطی کا کوئی نمونہ بھی عنایت کر دیں، وہ اس معاملے میں بڑے فراخ دل واقع ہوئے ہیں۔’افسوس کہ یہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا کیوں کہ چند ہفتوں کے اندر اندر ٹیلی ویژن پر سناؤنی آ گئی ملک کے مایۂ ناز مصور، خطاط اور شاعر صادقین کا انتقال ہو گیا ہے۔اب سوچتا ہوں کہ چلو اس دن صادقین کچھ نہیں بولے، نہ سہی، کم از کم میں ہی ان سے کچھ بات کر لیتا تو آج اس قدر افسوس نہ ہوتا۔
ظفر سید

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here