پاکستانی فوجیوں کی ضرورت ہی کیوںپڑی؟

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پاکستانی فوج کے مزید جوانوں کو سعودی عرب بھیجنے کے اچانک فیصلے نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے غیر متوقع فیصلے کا اعلان کرنے کے لیے پاکستان فوج کی طرف سے جو مراسلہ جاری کیا گیا اس نے بھی اس بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔اس اعلان میں خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا کہ پاکستان فوج کے دستے سعودی عرب کی سرحدوں کے باہر کسی فوجی مہم جوئی میں شریک نہیں ہوں گے لیکن اس سے زیادہ اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گی۔یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان فوجیوں کی تعداد کتنی ہو گی، ان کی تعیناتی کی مدت کیا ہو گی اور ان کو تعینات کیے جانے کا مقصد کیا ہے۔آئی ایس پی آر کی طرف سے گزشتہ روز جو پریس ریلیز جاری کیا گیا تھا اس میں یہ کہا گیا کہ پاکستان کے مزید فوجی جو سعودی عرب روانہ کیے جارہے ہیں وہ وہاں پہلے سے موجود پاکستان فوجیوں کا حصہ بنیں گے۔یہ بات شاید یہ باور کرانے کے لیے کہی گئی تھی کہ مزید فوجی سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف قائم کیے جانے والے چالیس سے زیاہد ملکوں کی فوج کا حصہ نہیں بنیں گے۔پاکستان فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور دفاعی تجزیہ کار غلام مصطفی کے خیال میں پاکستان کی طرف سے بھیجے جانے والے مزید فوجی اس کثیرالملکی اتحاد کی فوج کا حصہ بنیں گے جس کی سربراہی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کر رہے ہیں۔بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب یہ فوج بنی تھی اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کے دستے بھی اس فوج کا حصہ بنیں گے۔فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے سوال پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں بہت اہم ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور دوسری طرف امریکہ کی طرف سے شدت پسند عناصر کے خلاف واضح کارروائیوں کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ملکی سرحدوں کی صورت حال کے علاوہ ملک کے اندر بھی فوج کا ردالفساد کے نام سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔اس فیصلے نے جن اہم اور بنیادی نوعیت کے سوالوں کو جنم دیا ہے ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ فیصلہ فوج نے یکطرفہ طور پر کیا ہے یا حکومت کی منظوری کے بعد یہ اہم اعلان کیا گیا ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی منظوری سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کا اعلان وزیر اعظم اور وزیر دفاع کی طرف سے کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ملکی پارلیمان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا اور یہ ابہام کیوں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ فوج اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ان ہی سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں فوجی امور کے تجزیہ کار بریگیڈئرریٹائرڈ محمد سعد سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش بھی گئی کہ آخر سعودی عرب کو پاکستان فوج کے دستوں کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے۔بریگیڈیئر سعد خود بھی سعودی عرب میں تعینات رہے ہیں اور ان کے مطابق جس وقت ان کی سعودی عرب میں تعیناتی ہوئی تھی اس وقت وہاں ایک آرمڈ بریگیڈ تعینات تھا اور اس کے ساتھ کچھ توپ خانے کی یونٹ اور کچھ ایئر ڈیفنس کی یونٹ تعینات تھیں۔بریگیڈر سعد کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے مزید دستے بھیجنے کی درخواست سعودی عرب کی اندرونی کشمکش کی وجہ سے کی گئی ہے۔جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی اس بات سے تو متفق تھے کہ سعودی عرب کو اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی پوزیش مستحکم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات لیے ہیں جن کا رد عمل ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں سعودی عرب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ بے چینی پائی جاتی ہے۔ لیکن وہ اس بات سے متفق نہیں تھے کہ کسی بھی اندرونی خلفشار کی صورت میں پاکستان کی فوج اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گی۔سعودی عرب کے داخلی معاملات میں پاکستان فوج کے براہ راست ملوث ہونے کے سوال پر بریگیڈیئر سعد نے کہا کہ پاکستان کے مفادات سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں سے وابستہ ہیں اور ان کے دفاع کے لیے پاکستان کو داخلی کشمکش کا حصہ بننا پڑا تو وہ بنے گا۔انھوں نے کہا کہ فوجی دستوں کی کسی جگہ موجودگی بذات خود استحکام اور سیکیورٹی کا باعث بنتی ہے اور پاکستان فوج کی موجودگی ہی بڑی حد تک استحکام اور سکیورٹی کی گارنٹی بنے گی۔
فراز ہاشمی

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here