روس، کراچی تا لاہور گیس پائپ لائن بچھانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے:ولادی میر ایل بری زوک

گجرات( محمود اختر محمود)منسٹر قونصلر ایمبیسی آف دی رشین فیڈریشن ولادی میر ایل بری زوک نے کہا ہے کہ روس اور پاکستان انٹرنیشنل معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ روس کراچی، لاہور تک گیس پائپ لائن بچھانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے بزنس ٹو بزنس اور چیمبر ٹو چیمبر میٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ گجرات آکر بہت خوشی ہوئی ہے کہ یہاں کی انڈسٹری بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی مصنوعات تیار کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر عامر نعمان، نائب صدر طارق سعید، سابق صدر شیخ ابرار سعید، ایگزیکٹو ممبر ندیم احمد سندھو، ثوبان ظہیر بٹ، میر صلاح الدین اور غیاث الدین پال چیئرمین پیفما نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات چیمبر تجارتی وفد تیار کرے اور رشیا کا دورہ کرے اس سلسلہ میں ہر ممکن تعاون کریں گے اور مارچ میں ہونے والی صنعتی نمائش کا بھی وزٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اب بہتر تعلقات بنانا چاہتے ہیں اور اس میں دونوں حکومتوں کے علاوہ چیمبرز ایسوسی ایشنز اور بزنس مینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ میں یہاں آیا ہوں مجھے انتہائی خوشی ہوئی ہے۔ صدر گجرات چیمبر عامر نعمان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور روس کے تعلقات ماضی میں اتنے دوستانہ نہیں رہے لیکن حالیہ کچھ سالوں میں تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان اور رو س اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 70 برس پورے کر چکے ہیں۔ پاکستان کی خطے میں اہمیت ہے۔ حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم وہ نہیں جو ہو سکتا ہے اور پاکستان کے لیے روس بھی ایسی مارکیٹ ہے جس کو ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر ہم اپنے ریجن کی بات کریں تو ہمارے فرنیچر، پاٹری، کارپٹس، پی وی سی ، جمز اینڈ جیولری ، سوپ اینڈ ڈٹرجنٹس، گارمنٹس، آٹو باڈی پارٹس، چاول، گندم اور کینو کو روس میں متعارف کروا کر مارکیٹ میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ہم رشین ایمبیسی اور کمرشل سیکشن سے مل کر کام کریں گے۔ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کا رول اہم ہے ۔ روس بھی اس پروجیکٹ کی خطے میں Connectivity کے حوالے سے اہمیت سے بخوبی واقف ہے۔ خاص طور پر جب روس بھی اسی طرح کی یوروایشین اکنامک یونین کے پروجیکٹ کو شروع کرنے کا خواہاں ہے اور اگر ان دونوں منصوبوں کو ملا کر یا علیحدہ بھی روس سی پیک میں پاکستان سے ملتا ہے تو اس کے دور رس نتائج حاصل ہوں گے۔ دونوں ممالک کو وفود کے تبادلے اور ایک دوسرے ممالک میں ہونے والی نمائشوں میں حصہ لینا ہو گا اور ہم روس کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے ذریعے روسی بزنس مینوں کو اپنے اس سال منعقد کی جانے والی صنعتی نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔مہر طارق سعید نائب صدر چیمبر نے روس کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ تعلقات میں نکھار آرہا ہے اور اس سے خطے کے امن و سلامتی اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا جو دونوں ممالک کیلئے انتہائی موزوں ہے۔ سیشن میں سابق صدور چیمبر ، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران اور بزنس مینوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ گجرات چیمبر کے صدر نے مہمان کو شیلڈ بھی پیش کی۔بعد ازا ں مہمان منسٹر قونصلر ایمبیسی آف دی رشین فیڈریشن Vladimir L. Berezyuk ولادی میر ایل بری زوک کو ایکسپو سنٹر کا بھی وزٹ کرایا گیا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here