عہدہ کا گھمنڈ اور ناجائز استعمال، خاتون آفیسر نے 85 سالہ بزرگکے خلاف ناجائز پرچہ درج کر دیا۔۔۔

پاکپتن:85 سالہ بزرگ تاجر نے ڈی پی او ماریہ محمود کے سر پہ شفقت سے ہاتھ جو رکھا تو ڈی پی او صاحبہ آگ بگولا ہو گئیں۔بزرگ کو نہ صرف سخت سست کہا بلکہ جھوٹا مقدمہ درج کرا کے حوالات میں ڈال دیا۔۔مشرقی روایات میں بڑوں کا سر پہ ہاتھ رکھنا خوبصورت روایت ہے ، ۔یہ ایک خاص طرح کی محبت اور شفقت کا اظہار ہے، – بزرگ کاجر م صرف خاتون آفیسر کو بیٹی سمجھ لینا تھا ۔۔۔مگرماریہ محمود نے یقیننا اس بزرگ کے پدرانہ جذبے کی توہین کی ، شاید اسے اسکے عہدے نے خودسری اور بدتمیزی کرنے پہ مجبور کیا ۔بلاشبہ خاتون “ڈی پی او عارف والہ ” بہت زیادہ معزز ہیں ، بلکہ ضرورت سے زیادہ عزت دار ہیں – کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہو جائیں – کھلی کچہری میں ایک اسی سال کے بزرگ نے اپنی بات کے پورا ہو جانے پر اپنی اس ” بیٹی ” کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا – خاتون مگر افسر تھیں ، بیٹی کیونکر ہوتیں … کہنے لگیں تمہاری میں نے عمر کا لحاظ کیا ہے ویڈیو دیکھ کر فرعون بھی شرما جائے سو کل سے بابا جی حوالات میں پہنچ گئے اور ان پر صریحا اور واضح جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا – جرم ان کا خاتون آفیسر کو بیٹی سمجھ لینا تھا – ظاہر ہے یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ معاف کر دیا جائے …سو اب سزا تو ملے گی – بھگتنا تو پڑے گا کہ اتنی بڑی آفیسر کو بیٹی سمجھ لیا -“خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے”

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

− 1 = 1