گوگل کا پلے اسٹور پر کریک ڈاؤن، متعدد ایپلیکشنز ہٹا دیں

سان فرانسسکو: انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے اپنے پلے اسٹور سے سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد نامور اپیلیکشن ہٹا دیں۔ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق گوگل نے 85 کے قریب ایسی ایپلیکشن اپنے پلے اسٹور سے ہٹائیں جو نجی کمپنیوں نے تیار کیں تھیں۔رپورٹ کے مطابق پلے اسٹور سے ہٹائی جانے والی اپیلیکشن میں سے متعدد ٹی وی ریموٹ کنٹرول کرنے کے حوالے سے تھیں جن میں سے ایک ایپ کو 90 لاکھ سے زائد بار صارفین نے ڈاؤن لوڈ کیا۔گوگل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے ایپلیکشن کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا، اب مذکورہ کمپنیاں دوبارہ اس طرز کی ایپس پلے اسٹور پر اپ لوڈ نہیں کرسکیں گی۔کمپنی ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے مسلسل مانیٹرنگ کے بعد ان ایپلیکشنز کی نشاندہی کی جو adwareسے متعلق تھیں۔گوگل کی جانب سے مختلف گیمز اور موبائل ایپلیکشنز ان لاک کرنے والے سافٹ ویئرز کو بھی ہٹا دیا گیا۔ کمپنی نے صارفین کو خبردار کیا کہ وہ غیر تصدیق شدہ ایپلیکشنز ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔سیکیورٹی ماہرین نے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی کو ریسرچ رپورٹ تیار کر کے گزشتہ ماہ تیار کر کے دی جس میں بتایا گیا تھا کہ چند ایک مشہور اپیلیکشنز ہیں جنہیں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ استعمال کرتے ہیں۔گوگل کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ ایپلیکشنز کے حوالے سے صارفین کی مسلسل شکایات بھی موصول ہورہی تھیں جن کے خلاف اقدامات بہت ضروری تھے کیونکہ ہم اپنے صارف کو شفاف اور اچھا پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتے ہیں۔کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پلے اسٹور پر شروع ہونے والا آپریشن جاری رہے گا، مستقبل میں مزید ایپلیکشنز پر پابندی لگائی جائے گی۔موبائل سیکورٹی سسٹم پر نظر رکھنے والے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ گوگل مستقبل میں اپنے پلے اسٹور سے 7 لاکھ سے زائد ایپلیکشنز ہٹائے گا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

5 + 3 =