سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف سماعت کا آغاز

سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دیدیا گیا،سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیل کا حق دینے کے نئے قانون کیخلاف آئینی درخواستیں منظور کرلی۔

خبروں کے مطابق سپریم کورٹ نے متفقہ طور فیصلہ سنایا، فیصلہ سنانے والے ججز میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال شامل ہیں،تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

توشہ خانہ کیس کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

سپریم کورٹ نے کیس کی 6سماعتیں کرنے کے بعد 19جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے سماعت کی ،چیف جسٹس پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی، سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ غیرآئینی ہے۔

یاد رہے کہ ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184تھری کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا، ایکٹ کے تحت اپیل سننے والے بنچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سننے والے ججز سے زیادہ ہونا لازم ہے ، پی ٹی آئی سمیت انفرادی حیثیت میں وکلا نے اس ایکٹ کو چیلنج کیا تھا۔