کابینہ کا اجلاس بے نتیجہ ختم ، ریلیف آئی ایم ایف کی اجازت سے مشروط ہے

نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی بلوں کی مد میں عوام کو ریلیف نہ مل سکا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بجلی بلز پر 9 روپے فی یونٹ جی ایس ٹی عائد ہے۔ بلز میں کمی کیلئے بازار اور دفاتر شام 6 بجے تک بند کرنے کی تجویز دی گئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی یا اس کی اجازت سے ریلیف مل سکتا ہے۔

اجلاس میں ملک کی معاشی صورتِ حال، بجلی کے بلوں پر عوامی احتجاج اور پاور ڈویژن کے فارمولے پر غور کیا گیا۔ وزارت توانائی نے عوام کو ریلیف کے لیے تیار کردہ تجاویز اجلاس میں پیش کیں۔

اجلاس میں اسلام آباد ایئر پورٹ کو آؤٹ سورس کرنے سے متعلق ایوی ایشن ڈویژن بریفنگ دی گئی۔ واپڈا اور بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو دیے جانے والے مفت بجلی یونٹس پر بریفنگ دی گئی۔

تاجروں نے بجلی کے بل ادا کرنےسے انکار کر دیا

اجلاس میں ملک بھر میں بجلی کے زائد بلوں، احتجاج، عوام کو ریلیف سے متعلق بات ہوئی۔ وفاقی کابینہ نے بجلی کے جولائی اور اگست کے بلز قسطوں میں ادا کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ کابینہ کی منظوری کے باوجود حتمی فیصلہ آئی ایم ایف سے منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔

دریں اثنا ڈسکوز اور واپڈا کے ملازمین کو مفت بجلی ملنے کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز اور واپڈا ملازمین کے مفت یونٹس کا معاملہ توانائی کمیٹی کو ارسال کردیا گیا اس پر مزید بات کی جائے گی۔

قبل ازیں پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے بل کی ادائیگی اقساط میں کرنے کی تجویز دی گئی تھی، بھاری بلز کی ادائیگی سردیوں کے مہینوں میں ادا کرنے کی بھی تجویز دی گئی، گھریلو صارفین کو بجلی بلز پر ون سلیب بینیفٹ دینے کی تجویز بھی دی گئی، بجلی بلز پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ختم کرنے پر وزارت خزانہ کی رائے لینے کی تجویز دی گئی۔