جرمنی میں پناہ کی درخواستیں، کتنے پاکستانیوں نے پناہ کیلئے کوشش کی؟

جرمنی( محمد اصغر مرزا) دو برس قبل مہاجرین کا بحران شروع ہونے کے بعد سن 2017 میں پہلی مرتبہ پاکستان جرمنی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والے ٹاپ ٹین آبائی ممالک کی فہرست سے نکل گیا۔ اس برس محض چار فیصد پاکستانی درخواست گزاروں کو پناہ دی گئی۔

Aufnahmeeinrichtung Oberfranken (AEO) in Bamberg (DW/H.Kiesel)

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت و ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے مطابق سن 2017 میں یکم جنوری سے لے کر نومبر کے اختتام تک مزید دو لاکھ سے زائد افراد نے جرمن حکام کو سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔ اس کے برعکس سن 2016 میں قریب ساڑھے سات لاکھ جب کہ اس سے پہلے 2015 میں پونے پانچ لاکھ تارکین وطن نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ سن 2015 میں مہاجرین کا بحران شروع ہونے کے بعد جرمنی پہنچنے والے پناہ کے متلاشی انسانوں کی اکثریت کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے تھا۔ تاہم پاکستان بھی ان پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل رہا تھا، جن کے شہری سب سے زیادہ تعداد میں پناہ کے لیے جرمنی پہنچے تھے۔ تاہم دو برس بعد سن 2017 میں پاکستان ان پہلے دس ممالک کی فہرست سے نکل گیا۔

2 تبصرے

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

57 − = 52