ناچ نا جانے آنگن ٹیڑھا

آج جس طرف دیکھو پاکستان میں ہر طرف سپریم عدل کے ادارے پر تنقید کا سلسلہ چل پڑا ھے۔جو سراسر غلط راستہ ھے جس کو دیکھو اور کوئی کام نہیں تو عدلیہ پر اچھی خاصی بحث کر لیتا ھے ھم مسلمان ھیں اور ھمارا ملک پیارا پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور ھمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیاں دے کر حاصل کیا تا کہ ھم اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ھو کر آزاد ریاست میں زندگی گذار سکیں لیکن یہاں تو آوے کا آوا بگھڑا ھواھے اسلام کے چودہ سو سال پہلے تک نظر دوڑا لیں قاضی کسی کو بھی طلب کر سکتا تھا کسی کو عدلیہ پر تنقید کی اجازت نہ تھی آج کے دور میں واپس آئیں کینڈا کا وزیر اعظم آج بھی نان مسلم ھونے کے باوجود پبلک مقامات پر بغیر پروٹوکول اور بغیر سیکورٹی کے جا کر عوام میں گھل مل جاتے ہیں آور ان کے ساتھ سیلفیاں بنواتے ہیں یہ سوچنے کا مقام ھے انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ان کو کسی سے ڈر نہیں لگتا لیکن ہمارے ہاں کلچر بن گیا وی آئی پی اور سیکورٹی کا جس کی مثال ناظم ایم پی اے ایم این اے صوبائی وزرآ وفاقی وزرآ اور صو بوں کے وزرائےاعلی’وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ مشیر کبیر اور سیکرٹری بھی پیچھے نہیں عوام جائے بھاڑ میں ان کو ان غریب غربا سے کیا لینا دینا ان سے اچھی غذا اور دیکھ بھال تو مغرب میں پالتو جانوروں کی ھے تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی اپنی سوچ کو تبدیل کرکے عدلیہ کے مقام اور مر تبے کا خیال رکھیں اگر عدم اعتماد ھی ضروری ھے تو اس کے لئے قانون موجود ھو گا اور اگر نہیں ھے تو قانون سازی کس نے کرنی ھے.یہ جو پاکستان میں ادویات فروخت ھو رھی ھیں ان کا معیار کھانے پینے کی چیزوں میں عوام زہر کھانے اور پینے پر مجبور ھیں گوشت میں حلال وحرام کی تمیز ختم کر دی گئ خاص کر گدھے کے گوشت کی نشاندہی میں نے خود کی بہت سے مشکلات کے باوجود میں نے ھمت نہ ہاری اور اسسٹنٹ کمشنر کو نہ صرف موقعہ پر بلایا اور نشاندھی کی گجرات میں گدھے کے گوشت کو خوب استعمال کیا گیا کیا حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ صحت تعلیم پر توجہ دے اور ان کو کنٹرول کرےحاکم وقت کو اپنے ساتھ اپنی رعایا کا حساب بھی دینا پڑتا ھے اور چوپو ایک خبر دودھ کے بارے میں آگئی ھے اسکی تفصیلات بھی جلد آئیں گی اب تو صرف یہی کہوں گا کہ
کیا کیا پوچھتے ھو صنم ہم سے ہم تو سدا کے بےخبر تھےبہ خبر ہیں
سپریم کورٹ کے معزز جج اور ان کے قائد چیف جسٹس پر تنقید کے نشتر چلانے سے پرھیز کیا جائے پاکستان کا ھر ادارہ سپریم ھے ھر ادارے کا اپنا مقام اور مرتبہ ھے پولیس ھو یا فوج پارلیمنٹ ھو یا عدلیہ ان کے مقام کو بلند کر کے ھی ھم ترقی کی منازل طے کر سکیں گے ورنہ زمانہ تو یہ کہنے پر مجبور ھو جائے گا ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا جس کا مطلب تو سب کو پتہ ھے

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

25 − = 19