خوبصورت رنگ برنگی چارپائیوں کی مانگ میں اضافہ

ننکانہ صاحب(ملک عثمان سندرا نہ )ننکانہ صاحب کے علاقہ واربرٹن میں تیار ہونے والی رنگ برنگی چارپائیوں کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا، دیہی علاقوں کیساتھ ساتھ شہروں میں بھی خوبصورت چارپائیاں جہیز میں دینے کا رجہان بڑھ رہا ہے خوبصورت رنگوں اور پھولوں کے ڈیزائن سے مزئین کیکر اور شیشم کی لکڑی سے بنے پائیوں والی چارپائیاں پنجاب کی ثقافت کا اہم حصہ ہیں.واربرٹن کے ہنر مند کاریگر اپنے ہاتھوں سے انتہائی خوبصورت دیدہ زیب اور دلکش رنگ برنگی چارپائیاں تیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں،چارپائیوں کیساتھ لکڑی کے کرسی نما موڑھے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔دیہی علاقوں میں بڑے زمیندار شادی بیاہ کی تقاریب میں انتہائی خوبصورت چارپائیوں کو جہیز میں شامل کر کے اپنی بیٹیوں کو دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں. یہ لکڑی خصوصی طور پر دور دراز کے علاقوں سے لائی جاتی ہے۔جن پر بیرون ملک سے امپورٹ کیے گئے رنگوں سے انتہائی خوبصورتی سے نقش بنائے جاتے ہیں4 سے 6ہزار روپے میں تیار ہونے والی چارپائی کو 3 سے 4 آدمی ایک دن میں تیار کرتے ہیں.شادی بیاہ، میلے، عوامی اجتماعات اور ڈیرے داری اس کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔جبکہ دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی عزت افزائی کے لئے بھی یہی رنگلی چارپائیاں نکالی جاتی ہیں۔تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران ان خاص چارپائیوں کی بجائے بیڈ کی مانگ اور لوہے کے فریم سے بنی سستی چارپائیوں نے اس کام سے جڑے کاریگروں کو کچھ حد تک متاثر کیا ہے۔علاقہ واربرٹن کے رہائشی مقامی دکاندار کا کہا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے رنگین چارپائیاں بنانے کا کام کر رہا ہے۔ لوگ فرمائش کر کے رنگین چارپائیاں بنواتے ہیں۔ شادیوں کے لئے کئی کئی مہینے پہلے آرڈر بک کروائے جاتے ہیں۔جیسے جیسے ہمارا طرز زندگی تبدیل ہو رہا ہے اسی طرح بیڈ اور میٹریس کی مانگ میں اضافہ ہو رہاہے مگر اس کے باوجود آج بھی پنجاب میں ان چارپائیوں کے بغیر گھر ادھورہ تصور کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

+ 2 = 12