پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمز مد مقابل ۔

لاہور:  پاکستان نسلی تعصب تنازع بھول کر پروٹیز پر حملے کیلیے تیار ہے لہٰذا سیریز کا تیسرا میچ جمعے کو سنچورین میں ہورہا ہے سرفراز احمد پر نسلی تعصب کے الزام پر آئی سی سی کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا تاہم پاکستان اور جنوبی افریقہ جمعے کو سنچورین میں زور آزمائی کیلیے تیار ہیں، پورٹ الزبتھ میں سیریز کے پہلے ون ڈے میں دونوں ٹیموں نے بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا لیکن کامیابی پاکستان کا مقدر بنی۔ڈربن میں دونوں کی ٹاپ آرڈر ناکام ہوئی لیکن ریسی وان ڈیر ڈوسین اور اینڈل فیلکوایو کی چھٹی وکٹ کیلیے شاندار شراکت نے گرین شرٹس سے فتح چھین لی،بیٹنگ میں اعتماد کی کمی کا شکار سائیڈز جمعے کو سنچورین میں برتری پانے کی کوشش کریں گی۔پاکستان کی جانب سے پہلے میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بیٹسمین امام الحق،بابر اعظم اور محمد حفیظ دوسرے میں یکسر ناکام ہوئے،فخرزمان دونوں میچز میں بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، تجربہ کار شعیب ملک کا بیٹ بھی نہیں چل پا رہا۔ڈربن میں حسن علی اپنی غیر معمولی اننگز کے دوران کپتان سرفراز احمد کے ہمراہ نویں وکٹ کیلیے 90رنز کی ریکارڈ شراکت قائم نہ کرتے تو پروٹیز کو 204کا ہدف دینا بھی ممکن نہ ہوتا،پاکستانی ٹیم بیٹسمینوں کی جانب سے کارکردگی میں تسلسل کی خواہاں ہوگی۔مہمان بولرز نے گزشتہ دونوں میچز میں اچھا پرفارم کیا ہے،پورٹ الزبتھ میں جنوبی افریقہ کی صرف 2وکٹیں گریں لیکن رن ریٹ قابو میں رہا، ہدف کم ہونے کی وجہ سے ہی بیٹسمینوں کو کم دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور 5وکٹ سے فتح حاصل ہوئی،دوسرے میچ میں بھی بولرز نے ٹاپ آرڈر کا جلد صفایا کردیا تھا۔شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان نے فتح کا راستہ بنایا لیکن بعد میں اینڈل فیلکوایو اور جنوبی افریقہ کی قسمت بھی اچھی رہی کہ ان کی وکٹ بار بار بچتی رہی، میزبانوں پر دباؤ کم کرنے میں فہیم اشرف کا بھی کردار تھا جن کی گیندوں پر آسانی سے رنز بنتے گئے،پاکستان اب ان کی جگہ محمد عامر کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔شاداب خان اپنی گھومتی گیندوں سے ایک بار پھر پروٹیز کو پریشان کرنے کیلیے تیار ہوں گے۔ دوسری جانب پہلے ون ڈے میں اسٹرائیک ریٹ کم ہونے کی وجہ سے مات کھانے والی جنوبی افریقی ٹیم دوسرے میچ میں ہدف کم ہونے کے باوجود 80رنز کے سفر میں ہی نصف بیٹنگ لائن کی رخصتی کا صدمہ اٹھا چکی تھی۔پورٹ الزبتھ میں ہاشم آملا اور ڈربن میں فیلکوایو کے ساتھ شراکتیں قائم کرنے والے ریسی وان ڈیر ڈوسین کے سوا کسی بیٹسمین کی کارکردگی میں تسلسل نظر نہیں آیا، فاف ڈوپلیسی کی فارم بھی تشویش کا باعث ہے۔پاکستان کیخلاف آخری ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے کوئنٹن ڈی کک آرام کے بعد ٹیم میں واپسی پر بیٹنگ مسائل میں کمی کرسکتے ہیں، میزبان پیسرز اینڈل فیلکوایو اور کاگیسو ربادا بھی دوسرے ون ڈے میں ردھم میں آگئے تھے۔ابتدائی دونوں میچز میں آرام کرنے والے ڈیل اسٹین اور ڈیبیو کے منتظر بیورن ہینڈرکس بھی پیس بیٹری کو تقویت دیں گے،تبریز شمسی اسپن کا جادو جگائیں گے، اسٹین کی واپسی محمد حفیظ کیلیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے جو تینوں فارمیٹ میں مجموعی طور پر 15بار پیسر کی وکٹ بنے ہیں۔یاد رہے کہ سنچورین میں کھیلے گئے 5باہمی میچز میں پاکستان نے 2 جیتے اور 3 میں ناکامی ہوئی۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

4 + = 7