پاکستان کا معاشی بحران اور ہم

از شہاب احمد خان :پاکستان آج کل شدید ترین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف تو اپوزیشن موجودہ حکومت کے پچھلے بیانات اورغیر حقیقی نعروں کو بنیاد بنا کر روزانہ انہیں ہدف تنقید بنا رہی ہے تو دوسری جانب معاشی زبوں حالی سے نکلنے کےلیے ہمارے وزیر اعظم تقریباً روزانہ ہی کسی نہ کسی ملک کے دورے پر پہنچے ہوتے ہیں، جہاں سے عوام کےلیے مزید قرض کی خبر سنائی جاتی ہے۔ لیکن یہ بات کوئی نہیں پوچهتا کہ یہ بھی تو قرض ہی ہے جو آج نہیں تو کل ادا کرنا ہے۔ ایک طرف ملک کو مقروض کرنے کی بنیاد پر پچھلی حکومت کو لعن طعن کیا جاتا ہے تو دوسری طرف مزید قرض لے لے کر قرضوں کی دلدل کو مزید گہرا کیا جارہا ہے۔یہاں غالب کا ایک شعر شدّت سے یاد آتا ہے:قرض کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاتے گی ہماری فاقہ مستی ایک دنہمارے وزیراعظم صاحب جو دوسرا کام کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مختلف امیر اور خوش حال ممالک میں جاکر ان کی ترقی اور خوشحالی کا راز جاننے کی ریسرچ بھی فرما رہے ہیں۔ کبھی وہ چین جا کر ان کی خوشحالی کا راز جاننا چاہتے ہیں تو کبھی ملائشیا پہنچ کر ان کی ترقی کا راز معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان دونوں ممالک کے عوام انتہائی منظّم انداز میں ایک لیڈر کے پیچھے چلنے والے اور اس کے ہر حکم پر عمل کرنے والے ہیں۔یہاں قائداعظمؒ شدّت سے یاد آتے ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا دونوں ممالک کی آزادی سے بھی قبل ہمیں تین رہنما اصول دیئے تھے: ایمان، اتحاد، تنظیم۔ہمارے ملک کی حالت تو یہ ہے کہ ہر گلی محلے میں ایک لیڈر موجود ہے۔ ملک میں رجسٹرڈ پارٹیوں کی تعداد تو خود عوام کو بھی معلوم نہ ہوگی۔ دوسری مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ اگر ایک پارٹی سیکولر ہے تو دوسری پارٹی اپنے آپ کو مذہبی جماعت کہلاتی ہے۔ ایک آزاد خیال ہے تو دوسری قدامت پرست ہے۔ گویا اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ ہر کوئی الاپ رہا ہے۔ لیکن انتخابات کے دوران اپنی پارٹی کے منشور اور اپنی پہچان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی سے اپنی مخالف پارٹیوں سے اتحاد بھی کرلیتے ہیں۔یہ ایسی ہی صورت حال ہے جیسے ایک انتہائی غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں بیٹھا ہوا اپنے حالات پر غور کررہا تھا کہ وہ کس طرح اپنی اور اپنے خاندان والوں کی ضروریات کو پورا کرے، مگر اس کے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ اس کا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے۔ اچانک اسے خیال آتا ہے کہ کیوں نہ وہ اپنی جھونپڑی کے سامنے محل میں رہنے والے امیر سے مشوره کرے کہ شاید وہ کوئی حل بتا دے۔ لہٰذا وہ اس امیر کے پاس جاتا ہے اپنے حالات اسے بتا کر مشوره طلب کرتا ہے۔ امیر آدمی اس سے کہتا ہے کہ یہ تو کوئی مشکل کام ہی نہیں۔ اگر تم اپنے حالات بدلنا چاہتے ہو تو ایسا کرو کہ دو چار ٹیکسٹائل ملیں لگا لو، ایک دو ایئر لائنز کھول لو۔ اگر ہوسکے تو ایک دو ٹریڈنگ ہاؤسز بھی کھول لینا۔ تمھارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ غریب آدمی خوش خوش اپنی جھونپڑی میں واپس آتا ہے، وہاں پہنچ کر وہ سوچتا ہے کہ ان سب چیزوں کےلیے وسائل کہاں سے لاسکے گا؟کوئی ہمارے وزیراعظم صاحب کو یہ کیوں نہیں بتاتا کہ نہ ہماری معیشت ان سے ملتی ہے نہ ہماری معاشرت ان جیسی ہے؛ نہ ہماری ثقافت ان سے ملتی ہے، نہ ہمارے مسائل ان جیسے ہیں اور نہ ہمارے وسائل ہی ان سے ملتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری شکلیں بھی ان سے نہیں ملتیں تو پھر کیسے ہم ان کے پیش کردہ حل کو اپنی قوم پر لاگو کرسکتے ہیں؟اگر ہم اپنے مسائل کا حل دوسروں سے پوچھتے رہیں گے تو جس طرح آمدنی میں اضافے کےلیے شراب خانے کھل گئے ہیں، اسی طرح کچھ اور بھی برائیاں معاشرے میں پیدا کرنے کے مشورے ہمارے دوست ہمیں انتہائی خلوص سے دیتے رہیں گے۔ اگر خدانخواستہ خواتین کو معاشی آزادی دینے کےلیے ہمارے وزیراعظم صاحب مشوره کرنے صدر ٹرمپ کے پاس چلے گئے تو وہ یہ مشوره بھی دے سکتے ہیں کہ آپ کے پاس وسائل تو ہیں نہیں کہ آپ اپنی خواتین کی ترقی پر خرچ کر سکیں، لہٰذا آپ ایسا کریں کہ عصمت فروشی کو لیگل کردیجیے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ کی نوجوان خواتین کو دنیا کا سب سے قدیم پیشہ اختیار کرنے میں آسانی ہوگی، خواتین بھی معاشی طور پر آزاد ہوجائیں گی۔ دوسری طرف اس آمدنی پر ٹیکس لگا کر حکومت اپنے لیے وسائل بھی پیدا کر سکے گی۔بات خواتین کو بااختیار بنانے کی چلی ہے تو آج ہم بھی آپ کو اپنے معاشرتی اور معاشی حالات کے تحت ایسا حل بتاتے ہیں جو نہ صرف مکمل طور پر قابل عمل ہے بلکہ اس کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت بھی نہیں۔ پاکستان اپنے موجودہ اور محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بھی اس حل کو نافذ کرکے اس ملک کی پچاس فیصد آبادی کے تمام مسائل حل کرسکتا ہے۔ہمارے ملک کی خواتین سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہیں۔ اگر کسی غریب آدمی کے چار بچے ہیں جن میں ایک لڑکی ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکی کو نہ تو تعلیم دلائی جائے نہ اسے اچھی غذا دی جائے۔ تمام وسائل لڑکوں پر خرچ کرکے انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے قابل کیا جائے، جس کی وجہ سے خواتین اپنی پوری زندگی مردوں کی محتاج رہتی ہیں۔ اگر اولاد نافرمان نکلے تو آخری زندگی کسی محتاج خانے میں بھی گزر سکتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کےلیے ایک ایسا حل یہاں پیش کیا جارہا ہے جس کےلیے نہ اضافی وسائل کی ضرورت ہے نہ کسی راکٹ سائنس کی۔حکومت ایک ایسا انویسمنٹ پلان دے جس کے تحت اگر کوئی اپنی پیدا ہونے والی بیٹی کےلیے ایک خاص اکاؤنٹ کھولے جس میں وہ شخص ہر مہینے کم از کم دو ہزار روپے ڈپازٹ کرے۔ دو ہزار روپے حکومت بھی اس میں ڈپازٹ کرے گی۔ یعنی جتنی رقم بیٹی کا باپ ڈپازٹ کرے گا، اتنی ہی رقم حکومت بھی ڈپازٹ کرے گی۔ اس ڈپازٹ کی کم از کم مدّت پانچ سال ہوگی۔ پانچ سال سے پہلے نہ اس میں سے وہ شخص رقم نکال سکتا ہو نہ حکومت رقم نکال سکے۔ ورنہ تو ہر شخص ہر سال اپنی رقم دگنی کرلے گا۔ ہر مہینے رقم ڈپازٹ کرانے کی کوئی حد نہیں۔ جو جتنی چاہے، رقم جمع کرا سکتا ہے۔ لیکن کم از کم حد دو ہزار روپے اس لیے ہے کہ اس سے کم میں یہ پلان کام نہیں کرسکتا۔اگر ایک شخص دو ہزار روپے ماہانہ جمع کراتا ہے تو سال میں یہ رقم 24 ہزار روپے بنتی ہے۔ اتنی ہی رقم حکومت نے بھی ڈپازٹ کری ہے، دونوں ملاکر 48 ہزار روپے ہوجاتے ہیں۔ یہ رقم اسی طرح بینک میں پڑی نہیں رہنے دی جائے گی بلکہ اس پر خاص فنڈ مینیجرز مقرر کئے جائیں گے جو اسے مستقل انویسٹ کرتے رہیں گے؛ اسٹاک مارکیٹ میں، کموڈیٹی مارکیٹ میں، منی مارکیٹ میں، جہاں سے زیادہ سے زیادہ ریٹرن حاصل ہوسکے۔ہمارے کمرشل بینکس اپنے اسٹاک فنڈ پر کم از کم 15 سے 20 فیصد تک منافع دے رہے ہیں۔ اگر خلوص اور محنت سے اس رقم کو انویسٹ کیا جائے تو اس رقم پر بھی 20 فیصد منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق 15 فیصد تک کا منافع بھی رکھ لیا جائے تو ایک سال کے بعد یہ رقم 55,200 روپے ہوجائے گی۔ اگلے سال کے اختتام تک اس رقم میں 48,000 روپے مزید ڈپازٹ ہوجائیں گے۔ دوسرے سال کے اختتام پر مجموعی رقم 103,200 روپے ہو جائے گی۔ اگر اس رقم پر 15 فیصد مزید منافع جمع کیا جائے تو کل رقم 118,680 روپے ہوجائے گی۔ تیسرے سال کے اختتام پر اس رقم میں مزید 48,000 روپے جمع ہوجائیں گے۔ کل ملا کر یہ رقم 166,680 روپے ہوجائے گی۔ اس پر اگر 15 فیصد منافع جمع کیا جائے تو یہ رقم 191,682 روپے بن جائے گی۔ چوتھے سال کے اختتام پر اس میں مزید 48,000 روپے جمع ہوجائیں گے۔ اب یہ رقم 239,682 ہو جائے گی۔ اس پر 15 فیصد منافع جمع کیا جائے تو یہ رقم 275,634 روپے ہوجائے گی۔ اسی طرح پانچویں سال کے اختتام پر اس رقم میں 48,000 روپے مزید جمع ہونے پر یہ رقم 323,634 روپے ہوجائے گی۔ اس میں 15 فیصد منافع اور جمع کیا جائے تو یہ رقم 372,180 روپے ہوجائے گی۔اب یہ اتنی رقم ہوچکی ہے کہ اس پر حاصل ہونے والے 15 فیصد منافع سے بچی کے ایک اوسط درجے کے اسکول کی فیس بہ آسانی ادا کی جاسکتی ہے۔ حکومت والد کو پابند کر سکتی ہے کہ وہ اپنی بچی کو اسکول میں لازمی داخل کرائے۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کسی بھی شخص کےلیے بچیوں کو اسکول نہ بھیجنے کا کوئی بہانہ نہیں بچے گا۔ اگر اسی طرح مسلسل 2,000 روپے مہینہ جمع کرایا جاتا رہے تو سات سال کے بعد والد کی انشورنس کا پریمیم بھی اسی اکاؤنٹ سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والا ہر شخص انشورڈ بھی ہوسکتا ہے۔ خدانخواستہ والد کی اچانک موت کی صورت میں خاندان بے آسرا بھی نہیں ہوسکتا۔ پندرہ سال کے بعد یہ رقم اتنی ہوجائے گی کہ جس سے بچی کی شادی اور نئی زندگی شروع کرنے کےلیے تمام وسائل لڑکی کو حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس رقم کی قانونی مالک وہ لڑکی ہی ہوگی جس کے نام سے یہ اکاؤنٹ کھولا گیا ہوگا۔اس طرح بچی کی تعلیم سے لے کر اس کی شادی تک تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اگر ہم اپنی 50 فیصد آبادی کے تمام مسائل اس اسکیم سے حل کر دیتے ہیں تو بقیہ 50 فیصد آبادی، جو ان سے جڑی ہوئی ہے، اس کے بھی تقریباً 80 فیصد مسائل حل ہوجائیں گے۔ صرف دو ہزار روپے ماہانہ کی انویسٹمنٹ سے تمام مسائل حل ہوسکتے ہوں تو یہ رقم حکومت کےلیے کچھ بھی نہیں۔ یہ تو صرف ایک دو پہلو ہی یہاں بیان کیے ہیں ورنہ تو اس سکیم سے لاتعداد فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔یہاں کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ عوام کے پاس تو دو ہزار روپے بھی نہیں، تو شاید وہ ہمارے معاشرے کے زمینی حقائق سے زیادہ واقف نہیں۔ہمارے ملک کا غریب اور متوسط طبقہ ساری زندگی بیسیاں ڈال ڈال کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ لہٰذا 2,000 روپے مہینہ پابندی سے جمع کرانا اور وہ بھی اس صورت میں کہ اس کے فوائد بھی انہیں نظر آرہے ہوں، کوئی ناممکن کام نہیں۔آج ہمارے یہاں بھیک مانگنے والے بھی 1,000 سے 3,000 روپے روزانہ کماتے ہیں کیونکہ سخاوت میں شاید ہم امریکا سے بھی آگے ہیں۔ ایک متوسط خاندان کے بچے بھی اینڈروئیڈ موبائل لے کر گھوم رہے ہیں جن کی اوسط قیمت تقریباً 15 سے 20 ہزار روپے ہے۔اگر ہماری نیت صاف ہے اور واقعی ہم خواتین کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تو شاید یہ سب سے بہتر طریقہ ہو۔ الله ہم سب کو صحیح سوچ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

− 6 = 3