ہلمندمیں بم دھماکے، گورنر زخمی

افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک سرکاری تقریب میں ہونے والے بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور صوبائی گورنر سمیت 23 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔حکام کے مطابق دھماکے صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ کے ایک اسٹیڈیم میں اس وقت ہوئے جب وہاں کسانوں کے دن کے سلسلے میں ایک تقریب جاری تھی۔تقریب میں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ دھماکوں سے تقریب میں موجود ہلمند کے گورنر محمد یاسین خان بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں ان کے محافظ فوراً اسٹیڈیم سے لے گئے۔اسپتال ذرائع نے اب تک دھماکوں میں دو افراد کے ہلاک اور 23 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ گورنر کی حالت کے بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں۔تاحال کسی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد پہلے سے ہی اسٹیڈیم میں نصب کیا گیا تھا۔ہلمند افغانستان کے ان کئی صوبوں میں سے ایک ہے جہاں طالبان کا واضح برتری اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔ہفتے کو ہونے والے دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب افغانستان میں قدیم فارسی تہوار نو روز کی تقریبات جاری ہیں۔یہ تہوار ہر سال بہار کی آمد پر ایران کے علاوہ افغانستان کے بھی کئی علاقوں میں منایا جاتا ہے۔ لیکن افغانستان میں کئی حلقے اس تہوار کی مذہبی بنیاد پر مخالفت کرتے ہیں۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ تہوار مجوسیوں کی یادگار ہے جسے منانا اسلامی روایات سے متصادم ہے۔جمعرات کو کابل میں نو روز کی تقریبات پر راکٹ حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

57 + = 67