کاغذات ہیں نہیں اور منہ اٹھا کر عدالت آجاتے ہیں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میںہوئی تو جج صاحب نے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا آپ نے عدالت آنے سے پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ قیمتوں کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں، جن کا کام ہے انہیں اپنا کام کرنے دیں، قیمتوں کا تعین ہمارا نہیں بلکہ اداروں کا کام ہے، ان کی نااہلی کا یہ مطلب نہیں ہر معاملہ عدالت لے آئیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ یہ بتائیں اوگرا آرڈیننس کے تحت قیمتوں کا تعین کون کرتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اوگرا آرڈیننس موجود نہیں۔ وکیل کے جواب پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کاغذات ہیں نہیں اور منہ اٹھا کر عدالت آجاتے ہیں۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

22 − 17 =