میری جان بھی چلی جائے توچوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا

قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ دس سال کے دوران ملک کو 24 ہزار ارب روپے قرضوں کا بوجھ ڈال کر اس کا دیوالیہ نکالنے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کر کے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، کمیشن میں آئی بی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے، ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے نمائندے شامل ہوں گے، اس کمیشن کی ذاتی نگرانی کروں گا، کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، حکومت کیا میری جان بھی چلی جائے چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔ منگل کی رات قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف نے آج پہلا بجٹ پیش کیا، یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریئے کی عکاسی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان نبی ﷺ کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا، پاکستان ایک عظیم ملک بننے جا رہا ہے، مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی، ریاست مدینہ کا سب سے بڑا اصول حکمران جوابدہ ہوتا تھا، ریاست مدینہ میں امیروں سے رقم لے کر غریبوں پر خرچ ہوتی تھی، ریاست مدینہ میں قانون کی نظر میں سب برابر تھے، مسلمانوں نے دنیا پر حکمرانی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں پہلے دن سے سن رہے ہیں، کدھر ہے نیا پاکستان؟، مدینہ کی ریاست ایک دن میں قائم نہیں ہوئی، مسلمان جہد مسلسل سے ایک عظیم قوم بنی۔ انہوں نے اپنے اس عزم کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ایک مسلسل عمل ہے جسے پورا کریں گے۔ انہوں نے نیب کی جانب سے کرپشن کے کیسز میں ہونے والی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ بڑے بڑے برج جیلوں میں ہوں گے، ماضی میں حکمران ججوں کو ٹیلی فون کر کے فیصلے بتاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں عدلیہ اور نیب آزاد ہیں، آج عمران خان بھی عدلیہ اور نیب پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت تب چلتی ہے جب پارلیمنٹ میں دو مختلف نظریے ہوں، پارلیمنٹ میں بحث کے بعد اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے، بحث کے بعد اتفاق رائے جمہوریت کا حسن ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

87 − = 83