پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول نہیں

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، ہمارے ملک میں امیر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، اگر کوئی ٹیکس دینے سے ناراض ہو گا تو ہم اسے ناراض کریں گے، لیکن کسی صورت میں ٹیکس چھوٹ اب کسی کو نہیں دی جائے گی، امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول بات نہیں ہے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھاکہ فائلر اور نان فا ئلر کا فرق ختم کررہے ہیں، کوئی نان فائلر کچھ بھی خریدے گا اسے فائلر بننا ہوگا، گاڑی اور جائیداد خریدنے والے کو فائلر بننا پڑے گا اور ذریعہ آمدنی بتانا پڑے گا، نان فائلر بننا آسان ہے اور 6 منٹ میں آن لائن کمپیوٹر پر فائلر بن سکتے ہیں، اگر 45 دن میں فائلر نہ بنے گا تو اسکو خودبخود ٹیکس نظام میں لایا جائیگا۔ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجٹ بناتے وقت ہم نے اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی، آمدن اور اخراجات میں توازن کیلئے محصولات کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے، ترقیاتی منصوبوں میں ڈیمز اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے ، بجٹ ایسے ماحول میں پیش کیا جب معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ نعتوں کوگیس اوربجلی کی مد میں سبسڈی دی جائیگی توانائی کےسرکلرڈیٹ کی ادائیگیوں کوبھی نہیں روک سکتے۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے، کسی اورسے قربانی مانگنے سے پہلے ہم نے خود قربانی دی۔ پاک فوج نے اخراجات کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا، عسکری قیادت نے رضاکارانہ طورپر بجٹ میں اضافہ نہیں لیا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ 9.2 ارب ڈالر مسائل کے حل کیلئے حاصل کیے، 2900 ارب ماضی کے قرضوں کی ادائیگی پرسود کیلئے رکھے جا رہے ہیں، چھوٹے صارفین کی سبسڈی کیلئے 216 ارب روپے رکھے ہیں، بیرونی خسارے کو کنٹرول کرنا ہو گا، ایکسپورٹ سیکٹر کو برآمدات بڑھانے کیلئے مراعات دی ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

58 + = 66