نئے چیئرمین سینیٹ کیلئے میرحاصل بزنجوکےنام پراتفاق

اپوزیشن نے نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے میرحاصل بزنجوکےنام پراتفاق کرلیا ہے، رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے نام کا آج باقاعدہ اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو اور میر کبیر شاہی کےنام پیش کیےگئےتھے ، چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے لینے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کی صدارت کنوینئر اکرم خان درانی کر رہے ہیں، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، میاں افتخار، نیر بخاری، فرحت اللہ بابر، طاہر بزنجو، شفیق پسروری، ہاشم بابر اجلاس میں شریک ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاورت جاری ہے۔
دوسری طرف ذرائع نے بتایا ہے کہ نوازشریف نے بلوچستان کو حق دینے کیلئے حاصل بزنجو کا نام تجویز کیا ہے اور انہیں چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دی ہے۔ذرائع کا کہناہےکہ سابق وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں کو (ن) لیگ کی طرف سے بھی چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو کا نام تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے اپوزیشن نے صادق سنجرانی کو ہٹانے کی قرارداد اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی۔ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔ سینیٹ کا اجلاس 14 روز کے اندر بلایا جائے گا۔
حلف نہ اٹھانے والے اسحاق ڈار کے علاوہ مسلم لیگ ن کے 30 سینیٹرز ہیں، ان میں سے 17 مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر، باقی 13 آزاد حیثیت سے جیتے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 21، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی (ف) 4، اے این پی کا 1 اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 4 سینیٹرز ہیں، یوں اپوزیشن ارکان کی تعداد 65 ہے۔
حکومتی بنچز پر پی ٹی آئی کے 14، ایم کیو ایم 5 اور فاٹا کے 7 سینیٹرز ہیں۔ مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک ایک، صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8 سینیٹرز کو ملا کر حکومت کو 36 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔جماعت اسلامی کے دو سینیٹرز نے اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ عدم اعتماد کے معرکے میں وہ کس کا ساتھ دیں گے؟ تاحال واضح نہیں ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

4 + 3 =