انگلینڈ نے کینگروز کی درگت بنا ڈالی ،انگلینڈ چوتھی مرتبہ فائنل میں

برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلے جانے والےمیچ میں آسٹریلوی کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔اننگز کے آغاز پر قسمت نے آسٹریلیا کا ساتھ نہ دیا اور اس کی پہلی وکٹ 4 کے مجموعے پر گری اور فنچ بغیر کوئی رن بنائے آرچر کی گیند پر پویلین لوٹ گئے، ان کے بعد وارنر 9 کے مجموعے پر واکس کی گیند پر سلپ پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔پیٹر ہینڈسکومب بھی پچ پر ٹک نہ سکے اور 4 رنز بنا کر واکس کی گیند پر پویلین کا رُخ کرلیا۔چوتھی وکٹ پر کیری اور اسمیتھ نے ٹیم کو سہارا دیا اور اسکور کو آگے بڑھایا لیکن 117 کے مجموعے پر کیری 46 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جن کےبعد آنے والے اسٹوینیس بغیر کوئی رن بنائے راشد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔جب ٹیم کا مجموعی اسکور 157تک پہنچا تو گلین میکسویل بھی 22 رنز بنا کر آرچر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے جس کے بعد اسٹیون اسمیتھ نے ذمہ درانہ بیٹنگ کی لیکن وہ بھی 217کے مجموعی اسکور پر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے اسمیتھ نے 85رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور بٹلر کے ہاتھوں رن آؤٹ ہو گئے۔آخری اوورز میں مچل اسٹارک کے 29رنز کی بدولت پوری آسٹریلوی ٹیم49 اوور میں آؤٹ ہو گئی۔انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس اور عادل رشید نے 3،3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ آرچر نے 2اور مارک ووڈ نے 1 وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز جیسن روئے اور جونی بیرسٹو نے کیا، دونوں جارحانہ بلے بازوں نے شروع میں محتاط انداز میں بیٹنگ کی تاہم بعد میں سکور کو تیزی سے آگے بڑھانا شروع کیا۔ اس دوران جیسن روئے نے کینگروز باؤلرز کی خوب دھنائی کی۔ انگلینڈ کی پہلی وکٹ 124 رنز پر گری، جونی بیرسٹو 34 سکور بنا کر فاسٹ باؤلر مچل سٹارک کی گیند پر ایل بی ڈبییو ہو گئے۔ دوسرا نقصان جیسن روئے کی صورت میں اٹھانا پڑا جب بیٹسمین جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 65 گیندوں پر 85 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کی اس اننگز میں 9 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔جوئے روٹ نے 49 سکور کی باری کھیلی، مورگن نے 40 رنز بنائے۔ سٹارک اور کمنز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ انگلینڈ اس سے قبل 1979، 1987، 1992 کے فائنل کھیل چکا ہے تاہم ہر بار فیصلہ کن مرحلے میں ناکام رہا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

+ 46 = 49