مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا تاریخی اجلاس ختم

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس ہوا۔ذرائع کے مطابق بھارت نے اجلاس روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی اور مکمل ناکام ہوا، اجلاس میں اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ اور ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکل افیئر بریفنگ دیں گے، کونسل کی صوابدید ہے کہ پریس اسٹیٹمنٹ جاری کرے یا نہ کرے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال خراب ہوئی تو اوپن بحث بھی ہو سکتی ہے، اس وقت سلامتی کونسل کی میز پر کوئی قرارداد نہیں ہے، اس اجلاس کو کوئی ممبر ویٹو نہیں کرسکتا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کونسل فیصلہ کرے گی کہ آگے کیسے چلنا ہے، پاکستان یا بھارت میں سے کسی کو اجلاس میں بلایا نہیں جائے گا۔ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود اجلاس بلایا گیا، آج کا اجلاس بھارت کی اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی، انسانی حقوق کی پامالیوں پر بلایا گیا۔

یاد رہے کہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازع کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے 13 اگست بروز منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں استدعا کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔ پاکستان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی موضوع پر دو خط لکھ چکا ہے۔
سلامتی کونسل کا یہ خصوصی اجلاس پاکستان اور چین کی درخواست پر بلایا گیا ہے جس کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر غور کریں گے۔اجلاس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام اور وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملات پر بحث ہوگی۔اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی مستقل مندوب منیر اکرم نے اجلاس کے بارے بتایا کہ سیکیورٹی کونسل میں مرحلہ وار ہی آگے بڑھا جائے گا۔ بند کمرہ اجلاس میں صرف سلامتی کونسل کے ارکان شریک ہوں گے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی کل تعداد 15 ہے جن میں 5 مستقل جبکہ 10 غیر مستقل رکن ہیں۔ امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ مستقل ارکان ہیں۔غیر مستقل ارکان میں بیلجیئم، آئیوری کوسٹ، ڈومنیکن ریپبلک، جرمنی، گنی، انڈونیشیا، کویت، پیرو، پولینڈ اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

42 − 39 =