داعش کا خاتمہ کرکے دم لیں گے, اوباما

U.S. President Barack Obama delivers remarks on the recent shootings in San Bernardino, after meeting with victims' families at Indian Springs High School in San Bernardino, California December 18, 2015. REUTERS/Jonathan Ernst - RTX1ZCFR

واشنگٹن (خبر ایجنسیاں) امریکی صدر اوباما نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہ داعش کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے ، امریکی ریاست ورجینیا کے شہر لینگلے میں واقع سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں انسداد دہشت گردی پر منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک کی فورسز نے دہشت گردوں کی سپلائی لائن کاٹ دی ہے ، ان کے بیشتر اہم اور سینئر رہنمائوں کو ہلاک اور دیگر کو گرفتار کیا جا چکا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب داعش اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوچکی ہے ۔ صدر اوباما نے کہا کہ ساری دنیا اس بات پر اتفاق کر چکی ہے کہ داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے ۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کو کچلنے کیلئے جاری کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے یہ اجلاس صدر اوباما نے طلب کیا تھا، اس میں نائب صدر جو بائیڈن، وزیر خارجہ جان کیری اور قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس نے شرکت کی۔ وزیر دفاع ایش کارٹر نے جو ذاتی طور پر لینگلے نہیں پہنچ سکے وڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے تمام دھڑوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کا تشدد قابل مذمت ہے ،شام میں 5 سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد اب وہاں مزید تباہی اور بربادی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جان کیری نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام شام کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ایک اور موقع ملا ہے ، جسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔ امریکا تمام شامی دھڑوں سے درخواست کرتا ہے کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے مندوب اسٹیفن دی مستورا اور ان کی ٹیم کو ایک موقع ضرور دیں، فریقین کو چاہیے کہ عارضی جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے امن بات چیت کو آگے بڑھانے میں بھرپور معاونت کریں، دوسری جانب جنیوا میں حزب اختلاف کی ٹیم کے سربراہ اسد زوبی نے کہا کہ اپوزیشن ملک میں جاری بحران کا خاتمہ چاہتی ہے ، لیکن شامی حکومت مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے بہانے بنا رہی ہے ۔ ادھر دمشق میں شامی اپوزیشن کی سپریم کونسل نے بھی کہا کہ بشار الاسد کی حکومت مسئلے کے سیاسی حل میں سنجیدہ نہیں ہے ، فوج اور اس کی حامی ملیشیا مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔ کونسل نے کہا کہ اسد کی فوج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران جنگ بندی کی 2000 مرتبہ خلاف ورزی کی اور شہری آبادیوں پر420 بیرل بم گرائے ۔ شام میں انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران حلب شہر میں لڑائی کے دوران تقریباً 100 جنگجو ہلاک ہو گئے ۔ ان ہلاک شدگان میں تمام متحارب گروپوں سے وابستہ جنگجو شامل تھے ۔ علاوہ ازیں ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں شامی فوج کے 50 اہلکار، بشار الاسد کی حامی ملیشیا کے 34 ارکان اور ان کے خلاف برسر جنگ النصرہ فرنٹ کے 24 جنگجو شامل ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

1 + 5 =