سعودی شہزادی حصہ بنت سلمان کو 10 ماہ کی معطل قید کی سزا

فرانس کے خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی عدالت نے مزدور کو پٹوانے اور پاؤں چومنے پر مجبور کرنے والی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بہن شہزادی حصہ بنت سلمان کو 10 ماہ قید کی معطل سزا سنا دی۔ ان پر مقدمہ رواں برس جولائی سے چل رہا تھا جبکہ واقعہ 2016 میں پیش آیا۔
سعودی شاہ سلمان کی بیٹی اور محمد بن سلمان کی بہن پر الزام تھا کہ انہوں نے باڈی گارڈ رانی سعیدی کو پلمبر اشرف عید کو پیٹنے کے احکامات دیے۔ شہزادی حصہ پر انکی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا، 10 ماہ قید کی معطل سزا کے ساتھ ان پر 11 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔45سالہ شہزادی ٹرائل کے دوران کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں اور انہیں کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی۔ استغاثہ نے چھ ماہ قید اور 5480 ڈالر جرمانے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے مزید سخت سزا سنائی۔
یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا جب شہزادی حصہ تفریح کیلئے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ارب پتی شخصیات کے پسندیدہ مقام فوش ایوینیو پر واقع لگژری اپارٹمنٹ میں موجود تھیں۔ اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل پر اشرف عید نامی پلمبر کام کررہا تھا، اچانک پانچویں منزل پر واش بیسن ٹھیک کرنے کیلئے بلایا گیا۔
عدالت میں دوران سماعت اشرف نے بتایا کہ جب وہ بیسن ٹھیک کرنے پہنچا تو واش روم کی کچھ تصاویر لیں جو کہ اس کے کام کا حصہ تھا تاہم شہزادی نے تصویریں لیتے ہوئے دیکھ لیا اور طیش میں آگئیں۔ شہزادی نے باڈی گارڈ کو بلایا جس نے اس پر تشدد کیا۔پلمبر کا مزید کہنا تھا کہ کئی گھنٹوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور میرا فون بھی توڑ دیا جبکہ شہزادی نے باڈی گارڈ سے کہا کہ اس کے سر پر بندوق تانو اور دو آپشنز دو، یا تو وہ میرے پاؤں چومے یا پھر مزید مار کھانے کیلئے تیار رہے۔عدالت میں اشرف نے بتایا کہ شہزادی اپنے باڈی گارڈ سے کہہ رہی تھیں کہ جان سے مادو اس کتے کو، اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ جب مجھے رہا کیا گیا تو پولیس نے دو گھنٹوں تک شہزادی سے پوچھ گچھ کی اور پھر جانے دیا، تین دن بعد شہزادی ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔


عدالت نے باڈی گارڈ رانی سعیدی کو 8 ماہ قید کی معطل سزا اور 5 ہزار یورو جرمانہ عائد کیا ہے۔ رانی سعیدی نے عدالت میں کارروائی کا سامنا کیا تاہم قید نہیں کیا جائے گا کیونکہ معطل سزا کی حیثیت علامتی ہوتی ہے۔ تحقیقاتی جج نے شہزادی سے رابطے کی متعدد کوششیں کیں تاہم ناکامی پر انہوں نے 2017 میں ان کے انٹرنیشنل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

7 + 1 =