ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو آئندہ پورا پاکستان بند کرکے دکھائیں گے

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہنا تھا کہ مسئلہ کسی ایک شخص کے استعفے کا نہیں بلکہ قوم کی امانت کا ہے۔ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا، اس کے علاوہ اب کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ کارکن ڈی چوک کا کہہ رہے ہیں لیکن وہاں جگہ کم ہے، یہاں کھلی جگہ ہے۔ ہم یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن میں جا کر شکایت کریں۔ الیکشن کمیشن تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ الیکشن کمیشن بے بس نہ ہوتا تو عوام کی اتنی بڑی تعداد یہاں نہ ہوتی۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آپ حساب مانگتے ہیں لیکن خود کسی ادارے کے سامنے پیش ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اس قومی اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا تھا کہ اپنے مطالبات کیلئے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جائیں گے بلکہ اس کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن ایک سال ہونے کے باوجود اس کا ابھی تک اجلاس تک نہیں ہوا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک تحریک ہے، یہاں احتجاج رکے گا نہیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ہم نے اسلام آباد بند کرکے دکھایا لیکن اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو آئندہ پورا پاکستان بند کرکے دکھائیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے امیر نے کہا کہ اب فیصلہ عوام کا ووٹ کرے گا۔ عوام کے ووٹ کو عزت دینی پڑے گی۔ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آئین سپریم ہے، اس کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔ مقصد کے حصول کیلئے جنگ جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اٹھارہ سالوں میں جمعیت علمائے اسلام نے مذہبی نوجوانوں کو سیاسی راستہ بتایا ہے لیکن آج ان کو اشتعال دلایا جا رہا ہے۔ دوستو! افواہوں پر مت جانا، سوشل میڈیا کے بجائے اپنی قیادت پر اعتماد کرو۔ یہ لوگ ہم سے زیادہ آپ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ قیادت آپ کے حق میں فیصلہ کرے گی۔ واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کی امیدوں پر پورا اتریں گے، مایوس نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کیخلاف سازشیں ہو رہی ہے۔ مدارس میں غریبوں کے بچے مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بڑے تعلیمی اداروں میں اصلاحات کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ پہلے بڑے تعلیمی اداروں پھر مدارس میں اصلاحات کی بات کرنا۔
اپنے جذباتی خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ ہر ادارہ مداخلت کر رہا ہے، عوام مطمئن نہیں ہے۔ سب اداروں کو طے کرنا ہوگا کہ آئین سپریم ہے، اس پر عہد وپیما کرنا پڑے گا۔ تمام اداروں کا اپنا دائرہ کار ہے، اس میں رہیں گے تو ملک میں کوئی فساد نہیں ہوگا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

99 − = 96