غیر قانونی طور پرمقیم پاکستانیوں کیلئے سعودی عرب کا بڑا فیصلہ

سعودی عرب نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد اب غیرقانونی طورپر مقیم افراد سفارتخانوں کے ذریعے اپنے ممالک جا سکیں گے۔
ویلفئیر اتاشی محمود لطیف نے کہا ہے کہ اسکیم کے تحت وطن جانے والے افراد پھرسعودی عرب نہیں آسکیں گے، اس ضمن میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی غیرقانونی طور پر مقیم ہم وطنوں کو را بطےکرنے کی ہدایت کی ہے۔۔محمود لطیف کا کہنا تھا کہ سفار تخانے کے رابطے پر ہی جیل حکام قیدیوں کو واپس بھیجیں گے اور یہ افراد سفارتخانوں کےذریعےاپنےممالک جا سکیں گے۔
یاد رہے گذشتہ ماہ می اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کے اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا سعودی عرب میں قید پاکستانی قیدیوں کی تعداد3 ہزار تھی لیکن وزیراعظم اور سعودی ولی عہد میں معاہدے کے بعد 563 قیدی رہا ہوئے، منشیات میں ملوث ہونے پر سعودی عرب سے60 فیصد قیدی رہانہ ہوئے۔
کام کا کہنا تھا کہ 315 قیدیوں کیلئے سعودی شاہ نے عام معافی کاا علان بھی کیا تھا، وزیراعظم اور ولی عہد معاہدے کے مطابق 2100 قیدیوں کی رہائی کا کہا گیا تھا تاہم سعودی عرب میں 60فیصد افراد منشیات کیسز میں ملوث ہیں، وہ افراد کیسز ختم تک رہا نہیں ہوسکتے۔
بریفنگ میں بتایا گیا تھا غیر قانونی سکونت اختیار3400 افراد کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا گیا ، ملک میں جرائم پیشہ افراد کوسزائیں دینےکی شرح 7 سے 9 فیصد ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں 16 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، یواےای میں 3خواتین کمیونٹی ویلفیئراتاشی موجود ہیں، کوشش ہے مرد کمیونٹی ویلفئیر اتاشی تعینات کئےجائیں ، کمیٹی کو جلد بیرون ملک قیدیوں کی فہرستیں فراہم کی جائیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

81 − = 76