پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیوڑٹی سٹڈیز (پکس) کے زیر اہتمام کشمیر بحران اور خطے کے امن کو درپیش چیلنجز سے متعلق کانفرنس

اسلام آباد ( محمد جابر ) موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو جس طرح ہر فورم پر اجاگر کیا کسی دوسری حکومت نے نہیں کیا‘ پاکستان کو چاہیے صرف بیانات تک محدود نہ رہے کشمیریوں کو ہتھیار اور دیگر عملی مدد فراہم کی جا ئے‘ معاشی بدحالی نہ لڑنے کا کوئی معقول بہانہ نہیں‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ آئینی طور پر تعلق قائم کرنا ضروری ہے‘ کشمیر میں صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی بلکہ وہاں نسل کشی ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیوڑٹی سٹڈیز (پکس)کے زیر اہتمام ہونے والی ایک روزہ کشمیر بحران اور خطے کے امن کو درپیش چیلنجز سے متعلق کانفرنس کے دوران مقررین نے کیا‘ کانفرنس سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری‘ سابق وفاقی وزیر دفاع لیفٹینٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی‘ بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط‘ سری لنکا میں پاکستان کے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک‘ سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ سید منظورحسین گیلانی،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی‘ سابق پاکستانی سفیر غالب اقبال‘ معروف سکالر ڈاکٹر سلمیٰ‘ پکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان‘ معروف صحافی احمد قریشی‘ ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزل ایوب ٹھاکر‘ انسانی حقو ق کی کارکن ماریہ اقبال ترانہ اور دیگر نے خطاب کیا‘ کانفرنس میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں ، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اسکالرز ، طلبہ اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعدادمیں شرکت کی‘ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کا موقف بالکل اٹل اورواضح ہے۔ کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی اور کرفیو کے خاتمے تک بھارت سے کسی بھی قسم کے مکالمے کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے۔سابق وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈنعیم خالد لودھی نے کشمیریوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیاانہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کشمیریوں کو اسلحہ اور ہر طرح کی عملی مدد پہنچائے بیانات سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں کیا ہم بھارتی حملے کا انتظار کر رہے ہیں، کمزور معیشت نہ لڑنے کا کوئی بہانہ نہیں، ویتنام اور افغانستان کی مثالیں سامنے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کے دوران بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ہندوستانی افواج کی کشمیر میں موجودگی پورے خطے کے لئے باعث خطرہ ہے۔جوکہ کشمیر پورے جنوبی ایشیاء کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے مودی سرکار کو ئی یہ بات تسلیم کرلینا چایئے کہ ہندوستان جبر کے ذریعے کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتاآر ایس ایس کا نظریہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بڑھاوا دے رہا ہے جسکے اثرات بلاواسطہ طور پرپورے خطے کے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ سید منظورحسین گیلانی نے کہا کہ ہمیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر سے متعلق فیصلے لینے چاہیے۔تا دم مرگ جدوجہد آزادی نہیں چھوڑیں گے۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم آرئیکل 370 اور 35 A کاخاتمہ خود بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ تحریک عالمی آزادی کشمیر کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ بی۔ جے۔پی نے لگاتار دو انتخابات کشمیریوں اور مسلمانوں سے نفر ت کی بنیاد پر جیتے ہیں۔ جس کا مقصد صرف اور صرف کشمیریوں کی آزادی سلب کرنا ہے۔آر ایس ایس کی انتہا پسند سوچ سے خوبصورت وادی کی خوبصوتی کوڈھویا جارہا ہے.

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

68 + = 75