ٹوکیو کی عدالت نےٹوئٹر قاتل کو سزائے موت سنا دی

ٹوکیو (آن لائن )فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جج کی جانب سے کہا گیا کہ یہ کیس سوشل نیٹ ورکس پر سخت کنٹرول کا مطالبہ کرتا ہے، اس نے معاشرے میں بہت بے چینی پیدا کی ہے کیونکہ سوشل نیٹ ورکس عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق 30 سالہ تاکاہیرو شیرائیشی نے اپنا شکار بننے والے نوجوانوں کے قتل اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اعتراف کیا جن میں سے ایک خاتون بھی تھیں۔جاپانی شخص کے طریقہ واردات سے متعلق یہ بات سامنے آئی کہ وہ ان سوشل میڈیا صارفین کو ہدف بنانا تھا جو خود اپنی زندگی لینے سے متعلق پوسٹ کرتے تھے۔تاکاہیرو شیرائیشی انہیں کہتا تھا کہ وہ ان کے منصوبے میں مدد کرسکتا ہے یا یہاں تک کہ ان کے ساتھ مر سکتا ہے۔ادھر ان کے وکلا نے اعتراض اٹھایا کہ ان کے موکل کو سزائے موت کے بجائے قید کی سزا دینی چاہیے کیونکہ ان کے شکار بننے والوں کی عمریں 15 سے 26 سال کے درمیان تھیں اور وہ سوشل میڈیا پر خود کی جان لینے کے خیالات کا اظہار کرچکے تھے اور وہ مرنے پر رضامند تھے۔تاہم پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کا کہنا تھا کہ جج نے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے 2017 جرائم پر انہیں سزائے موت سنائی اور اسے ‘ہوشیار اور ظالمانہ قرار دیا۔این ایچ کے نے رپورٹ کیا کہ جج کا کہنا تھا کہ 9 متاثرین میں سے کسی نے بھی مرنے کے لیے خاموش رضامندی سمیت کسی طرح کی رضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین بات ہے کہ 9 افراد کی جانیں لے لی گئیں۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی عزت کو پامال کیا گیا، مزید یہ کہ تاکاہیرو شیرائیشی نے ایسے لوگوں کو شکار بنایا جو ذہنی طور پر کمزور تھے۔واضح رہے کہ جاپان دنیا کے ان چند ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں سزائے موقت برقرار ہے اور وہاں سزائے موت کے 100 سے زیادہ قیدی ہیں اور اس کے لیے حمایت زیادہ ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

− 6 = 1