حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ تمام خواتین کیلئے ایک مشعل راہ

یوکے (آن لائن )آج کی اس تیز رفتار دنیا میں جہاں مرد اپنے کام کاج میں انتہائی مصروف رہتے ہیں وہیں خواتین بھی جاب کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں ، معاشرے کی اس بے بسی میں خواتین کیلئے چل پانا بڑا مشکل ہے مگر ایک ایسی راہنما بھی ہیں جنہوں نے تمام خواتین کیلئے ایک راہ ہموار بنائی۔اصل میں حضرت خدیجہ نے پیغمبرِ اسلام کو منتخب کیا اور شادی کی پیشکش کی۔ حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال جبکہ پیغمبرِ اسلام 25 سال کے تھے۔ یہ صرف ان دونوں کے رشتے کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہیں سے ایک ایسے مذہب نے جنم لیا جس کے پیروکار آج اپنی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔اسد زمان کہتے ہیں کہ انھوں نے اُس شخصیت میں ایسی شاندار خصوصیات دیکھیں کہ شادی کے بارے میں ان کا ذہن تبدیل ہو گیا۔برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے ایک امام اسد زمان کہ یہ الفاظ حضرت خدیجہ کے بارے میں تھے جو سنہ 555 میں اس علاقے میں پیدا ہوئیں جہاں آج سعودی عرب ہے۔انھیں معاشرے میں ایک باعزت مقام حاصل تھا، وہ بہت امیر اور بااثر خاتون تھیں جو کئی امرا کی جانب سے شادی کی پیشکش ٹھکرا چکی تھیں۔ان کی دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ ایک شوہر کا انتقال جبکہ دوسرے شوہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت خدیجہ نے خود ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔انھوں نے طے کر لیا تھا کہ اب شادی نہیں کریں گی لیکن ان کا یہ ارادہ اس وقت بدل گیا جب وہ اس شخصیت سے ملیں جو ان کے تیسرے شوہر بنے۔حضرت خدیجہ نے پیغمبرِ اسلام سے اس وقت شادی کی جب انھوں نے اپنی نبوت کا اعلان نہیں کیا تھا۔نیویارک یونیورسٹی میں قدیم مشرقِ وسطی کی تاریخ کے پروفیسر رابرٹ ہوئےلینڈ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کی شخصیت کی تفصیلی تصویر پیش کرنا مشکل ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ ان کے انتقال کے کافی سال بعد لکھا گیا۔حضرت خدیجہ کے تجارتی قافلوں کی پوری عرب دنیا میں رسائی تھی پروفیسر رابرٹ ہوئےلینڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہاتاہم زیادہ تر تاریخی ذرائع کے مطابق وہ آزادانہ فیصلے کرنے اور بہت مضبوط ارادوں والی خاتون تھیں۔مثال کے طور پر انھوں نے اپنے کزن کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا تھا جبکہ ان کا خاندان روایتی طور پر اس رشتے کی حمایت کرتا۔ لیکن وہ اپنے شوہر کا انتخاب خود کرنا چاہتی تھیں۔ حضرت خدیجہ ایک ایسے کامیاب تاجر کی بیٹی تھیں جس نے اپنے خاندانی کاروبار کو ایک وسیع کاروباری سلطنت میں تبدیل کر دیا تھا۔والد کی جنگ میں ہلاکت کے بعد حضرت خدیجہ نے کاروبار سنبھال لیا۔بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں مورخ بیٹنی ہیوز کا کہنا تھا کہ انھیں خود اپنے طور پر دنیا میں آگے بڑھنا آتا تھا۔حقیقت میں ان کی کاروباری ذہانت نے ہی انھیں اس راستے پر ڈالا جس نے آگے چل کر دنیا کی تاریخ بدل دی۔حضرت خدیجہ مکہ سے جو کاروبار کرتی تھیں اس کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بڑے شہروں میں ان کے تجارتی قافلے سفر کرتے تھے۔ یہ تجارتی قافلے طویل سفر طے کر کے جنوبی یمن اور شمالی شام جیسے شہروں تک جایا کرتے تھے۔یونیورسٹی آف لیڈز میں اسلامی تاریخ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر فوزیہ بورا کے مطابق حالانکہ کہ ان کی دولت کا ایک بڑا حصہ انھیں وراثت میں ملا تھا لیکن خود ان کی کوششوں سے ان کا کاروبار بہت وسیع ہوا تھا۔وہ خود انفرادی طور پر بھی ایک کامیاب کاروباری خاتون تھیں جن میں بہت خود اعتمادی تھی۔ وہ اپنے کاروبار کے مختلف کاموں کے لیے لوگوں کی خدمات حاصل کرتی تھیں۔پھر انھیں ایک ایسے شخص کے متعلق معلوم ہوا جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بہت ایماندار اور محنتی ہے۔حضرت خدیجہ نے اس شخص سے رابطہ کیا اور ان سے اپنے ایک تجارتی قافلے کی سربراہی کرنے کا کہا۔ جلد ہی وہ اس شخص کی مداح ہو گئیں۔حضرت خدیجہ پیغمبرِ اسلام سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انھوں نے ان سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ حضرت خدیجہ سے شادی کے بعد پیغمبرِ اسلام کو اپنے مقصد کے لیے زبردست استحکام اور معاشی مدد ملی۔کہا جاتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور حضرت خدیجہ کے ہاں چار اولادیں ہوئیں لیکن ان میں سے صرف ایک بیٹی ہی زندہ رہیں۔ مسلم انسٹیٹیوٹ آف لندن کی پروفیسر رانیہ حافظ کہتی ہیںسماجی تناظر میں اگر دیکھیں تو آپ کو اس وقت کے حالات کو بھی ذہن میں رکھنا ہو گا۔ وہ ایک کثرتِ ازدواج والا معاشرہ تھا۔ اس زمانے میں زیادہ تر مردوں کی کئی بیویاں ہوا کرتی تھی لیکن جب تک حضرت خدیجہ زندہ رہیں، پیغیمرِ اسلام نے دوسری شادی نہیں کی۔حضرت خدیجہ کی طرح پیغمبرِ اسلام بھی قریش قبیلے میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب اس علاقے میں اکثر لوگ کئی خداوں کی عبادت کرتے تھے۔جب پیغمبرِ اسلام کو روحانی تجربات کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ مکہ کے قریب پہاڑوں پر جا کر مراقبہ کرنے لگے تو ان کی شادی کو کئی برس ہو چکے تھے۔حضرت خدیجہ اور ان کا خاندان مکہ میں مقیم تھا جسے آج اسلام کا گڑھ تصور کیا جاتا ہےاس کے بعد انھیں فرشتے حضرت جبرائیل کے ذریعے اللہ کی جانب سے وحی آنے لگی۔پیغمبرِ اسلام نے فیصلہ کیا کہ وہ جس کیفیت سے گزر رہے ہیں اس کے بارے میں کسی کو بتائیں۔ وہ حضرت خدیجہ پر بےانتہا اعتماد کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان کی بات سنی اور انھیں دلاسا دیا کیونکہ ان کے دل نے کہا کہ یہ کوئی عظیم اور انتہائی مقدس تجربہ ہے۔امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی اسلامک اسکالر لیلیٰ احمد کہتی ہیں ‘جب پیغمبرِ اسلام پر قرآنی آیات اترنا شروع ہوئیں تو انھیں اس تجربے کو سمجھنے میں مشکل کا سامنا تھا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ نے ان کا ساتھ دیا۔کئی مورخین کی نظر میں پیغمبرِ اسلام پر اترنے والی آیات کو سب سے پہلے حضرت خدیجہ نے سنا تھا اس لیے وہ تاریخ کی پہلی مسلمان خاتون بن گئیں اور اسلام قبول کرنے والی پہلی شخصیت بھی۔پروفیسر فوزیہ بورا کہتی ہیں ‘انھوں نے اس پیغام کو یقین اور دل سے قبول کیا۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں اسلامی تاریخ پڑھانے والی پروفیسر فوزیہ بورا کے خیال میں حضرت خدیجہ نے اپنے شوہر اور اسلام کی حمایت اور مدد کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھامورخ بیٹنی ہیوز کا کہنا ہےمیرے خیال میں حضرت خدیجہ کی حمایت سے پیغمبرِ اسلام کو اپنا پیغام عام کرنے اور اپنے قبیلے کی اشرافیہ کی مخالفت کا مقابلہ کرنے میں بہت مدد ملی۔پروفیسر فوزیہ بورا کے مطابق جب پیغمبرِ اسلام نے تبلیغ شروع کی تو مکہ کے معاشرے میں ان کی بہت مخالفت ہوئی کیونکہ مختلف خداؤں کی عبادت کرنے والے معاشرے میں وہ ایک خدا کو ماننے کا پیغام دے رہے تھے۔اس موقعے پر حضرت خدیجہ نے وہ حمایت اور تحفظ فراہم کیا جس کی پیغمبرِ اسلام کو اشد ضرورت تھی۔ بیٹنی ہیوز کہتی ہیں کہ اگلے 10 سال تک حضرت خدیجہ نے اپنے خاندانی تعلقات اور اپنی دولت کے ذریعے اپنے شوہر کی بھرپور مدد کی۔حضرت خدیجہ نے زندگی کے آخری دنوں تک اپنے شوہر اور اسلام کی حمایت اور مدد کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھا۔سنہ 619 میں وہ بیمار ہو گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔اس وقت پیغمبرِ اسلام اور ان کی رفاقت کو 25 سال ہو چکے تھے اور حضرت خدیجہ کا بچھڑنا ان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔پروفیسر رابرٹ ہوئےلینڈ کے مطابق مورخین نے حضرت خدیجہ کا جس طرح ذکر کیا ہے، وہ بہت متاثر کن ہے اور انھیں پیغمبرِ اسلام کی بہترین رفیق قرار دیا گیا ہے۔حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کی کہانیاں اسلام میں خواتین کے کردار کے بارے میں بہت سے لوگوں کے تصورات کو چیلنج کرتی ہیں۔پروفیسر فوزیہ بورا سمجھتی ہیں کہ حضرت خدیجہ کی تاریخ کو جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ اس تصور کو غلط ثابت کرتی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دنوں میں مسلمان عورتوں کو گھروں تک محدود رکھا جاتا تھا۔پیغمبرِ اسلام نے حضرت خدیجہ کو ان کی پسند کے کام کرنے سے کبھی نہیں روکا تھا۔ تاریخ دانوں کے مطابق اس زمانے کے لحاظ سے اسلام نے عورتوں کو زیادہ حقوق اور اہمیت دی۔ایک مورخ اور ایک مسلمان کی حیثیت سے میں سمجھتی ہوں کہ خدیجہ ایک متاثر کن شخصیت تھیں، اسی طرح پیغمبرِ اسلام کی بیٹی حضرت فاطمہ اور دوسری بیوی حضرت عائشہ بھی ایسی ہی شخصیات میں شامل ہیں۔ یہ دانشور خواتین تھیں جو سیاسی طور پر متحرک تھیں اور جنھوں نے اسلام کے ترویج اور اسلامی معاشرے کے قیام میں بہت اہم کردار ادا کیا۔پروفیسر فوزیہ بورا کہتی ہیں کہ یہ ان کے لیے بہت خوشی اور دلچسپی کا باعث ہے کہ وہ اپنے طالبِ علموں کو ان خواتین کے بارے میں بتائیں۔پروفیسر ہوئے لینڈ کہتے ہیں کہ جب وہ پڑھانے کے غرض سے پاکستان آئے تو اس دوران انھوں نے حضرت خدیجہ کی ایک رول ماڈل کی حیثیت سے تعریف ہوتے دیکھی۔ ‘دو طالبات نے مجھ سے رابطہ کیا کیونکہ وہ حضرت خدیجہ کے بارے میں مزید سوالات پوچھنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ خدیجہ ان کی ہیرو ہیں، ایک ایسی خاتون جو اپنا بزنس خود سنبھالتی تھیں۔ ماہرین کے مطابق آج کل کی مسلمان خواتین حضرت خدیجہ سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیںمورخ بیٹنی ہیوز کہتی ہیں آج اسلام میں خواتین کی حیثیت کے موضوع پر بہت گرما گرم بحث ہوتی ہے اور کئی لوگ اسے خواتین کے استحصال سے جوڑتے ہیں۔بیٹنی ہیوز نے سکالر میرین فرانسوا سیرہ سے سوال کیا ‘اگر آپ حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ جیسی عظیم خواتین کے بارے میں سوچیں تو آپ کے خیال میں یہ خواتین آج 21ویں صدی میں اسلام کی جو صورت ہے، اس کے بارے میں کیا کہتیں؟میرین فرانسوا سیرہ نے جواب دیاآج جس طرح اسلام پر ایک مخصوص طریقے سے عمل کیا جا رہا ہے، میرا نہیں خیال کہ یہ خواتین اسے اسلام کی روح گردانتیں اور مجھے یقین ہے کہ حضرت عائشہ اگر آج ہوتیں اور انھیں کہا جاتا کہ کمرے سے باہر نہ نکلیں اور اپنی رائے کا اظہار نہ کریں تو وہ ایسی صورتحال سے خوش نہ ہوتیں۔ وہ مردوں کو سکھاتی تھیں اور انھیں تعلیم دیتی تھیں۔ اگر انھیں کچھ کہنا ہوتا تھا تو وہ کہہ گزرتی تھیں۔ان کے مطابق ’میرا نہیں خیال کہ آج اگر حضرت خدیجہ کو ایک مخصوص پیرائے میں محدود کر دیا جاتا، ان کی آواز کو دبایا جاتا اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی تو وہ یہ سب قبول کر لیتیں۔ان خواتین کی کہانیاں اسلام میں خواتین کے کردار کے بارے میں بہت سے لوگوں کے تصورات کو چیلنج کرتی ہیں۔بیٹنی ہیوز کہتی ہیں کہ یہ بہت افسوس ناک بات ہے کہ غیر مسلم دنیا میں بہت ہی کم لوگوں نے ان خواتین کے نام سنے ہیں یا وہ انھیں جانتے ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

93 − 92 =