ایرانی بیلسٹک میزائل اور ’بمبار ڈرونز‘ کا کامیاب تجربہ

تہران(آن لائن)طاقت حاصل کرنا اور سب سے آگے رہنا ہر ملک کا خواب ہے ،ہر ملک ایٹمی طاقت بننا ہی چاہتا ہے جس کو پورا کرنے کیلئے حکومتیں ٹیکنالوجی اور انرجی پر اپنا بیش بہا پیسہ بہاتی ہیں ،اپنی سرحدوں کو محفوظ کرنے کیلئے فوج اور دوسرے ممالک سے کیے گئے حملوں کو روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسی طاقت کے جنون میں  ایران نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے جس میں جدید بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کا تجربہ کیا ہے۔ ایران میں فوجی مشقوں کے پہلے دور میں جنگی طیاروں سے زمین پر بیلسٹک میزائلوں اور جنگی بمبار ڈرونوں کا تجربہ کیا گیا۔ مشقوں کے دوران ذوالفقار، زلزال اور دزفول میزائلوں کو اہداف پر داغا گیا۔یہ میزائل قابل دست راست اور رہنمائی کرنے والے وار ہیڈس سے لیس تھے جو دشمن کے میزائل دفاعی شیلڈ میں خلل ڈالنے اور دراندازی کرنے کے قابل تھے۔ بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز کی جدید قسم نے مخلوط حملہ کیا اور اپنے تمام اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔بحری عمان اور خلیج فارس میں ایران کی مسلح افواج کی تیاری اور فوجی صلاحیت کو بلند کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بحری جنگی مشقوں کا انعقاد کیا گیا۔