کرفیو زدہ شہروں کے عوام نے بھی مظاہرے کیے ،،،

کرفیو زدہ شہروں کے عوام نے بھی مظاہرے کیے ، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندر بل، ہندواڑہ و دیگر اضلاع میں موبائل ، انٹرنیٹ سروس بند سرینگر (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں جمعرات کو تیسرے روز بھی عوام نے مکمل ہڑتال کر کے بھارت کے جابرانہ قبضے اور اس کی فورسز کے مظالم کے خلاف شدید اظہار نفرت کیا۔ جمعرات کو تیسرے روز بھی ہندواڑہ، کپواڑہ، سرینگر اور دیگر اضلاع میں کشمیریوں نے احتجاجاً اپنا کاروبار بند رکھا اور قابض فوج کے مظالم کے خلاف پرجوش احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ہڑتال کی وجہ سے تمام علاقوں میں نظام زندگی معطل رہا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے ، کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے اعلان کے باوجود جمعرات کو بھی بے گناہ کشمیری شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور پولیس کے صرف ایک اے ایس آئی کو معطل کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر سے رابطہ کرکے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، منوہر پاریکر نے ان کی درخواست پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن تاحال اس معاملے پرکوئی عملی اقدام نہیں کیاگیا، قابض انتظامیہ نے ہندواڑہ سمیت جن علاقوں میں کرفیو نافذ کیا ہے ان کے شہریوں نے بھی کرفیو کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے ، کٹھ پتلی انتظامیہ نے مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے ہندواڑہ، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندر بل اور دیگر اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے ۔ یاد رہے کہ منگل کو ایک کشمیری لڑکی سے بھارتی فوجی کی زیادتی کے بعد مقبوضہ جموں، کشمیر اور لداخ میں ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل (انڈیا برانچ) کے عہدیدار ظہور احمد وانی نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کو کپواڑہ کے قصبے ہندواڑہ میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ سے ایک خاتون سمیت 4 شہریوں کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور ایک بھارتی فوجی کی طرف سے کشمیری طالبہ کی بے حرمتی کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرانا بھی ازحد ضروری ہے ۔ ایمنسٹی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں کی جانب سے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ، اس لیے فوج کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی تحقیقات بھی کرائی جائے ، ایمنسٹی کے عہدیدار نے کہا کہ یہ بات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے کہ صرف اس وقت آتشیں اسلحہ استعمال کیا جائے جب انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہے ، بھارت کے قانون نافذ کرنے والے حکام کو پر تشدد اور پر امن مظاہرین کے درمیان فرق کرنا چاہیے ۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

88 + = 97