سانحہ مری :ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش، حقائق سامنے آ گئے

اسلام آباد(آن لائن ) سانحہ مری میں مرنے والوں کی تعداد ایک دم بڑھ جانے سے انتظامیہ حرکت میں آگئی۔ برف ہٹانے کے مناسب انتظامات نہ ہونے اور سرکاری مشینری کی بروقت کاروائی نہ کرنے سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ حکومت پنجاب کو سانحہ مری کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی گئی جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جس کے مطابق مری اور گرد و نواح میں موجود سڑکوں کی گزشتہ دو برس سے جامع مرمت نہیں کی گئی تھی اور گڑھوں میں پڑنے والی برف سخت ہونے کے باعث ٹریفک کی روان میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی، اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا، سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کے لیے ہائی وے کی مشینری موجود نہیں تھی۔بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی۔رات گئے ڈی سی راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کی مداخلت پر مری میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی اور مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیورز بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکے تاہم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک کی روانی یقینی بنانے موقع پر موجود تھے۔ مری سانحے میں راولپنڈی کا پورا گھرانہ ہی موت کی وادی میں چلا گیا،اور کئی دوستوں کے گروپوں کے گروپ جان کی بازی ہار گئے۔بہت ساری غمگین ویڈیو ز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔وزیر اعلی پنجاب نے مزید تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔اتوار کے روز صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی۔مری جیسے ٹورسٹ سپاٹ پر انتظامات کی کمی نے انتظامیہ کے پول کھول دئیے،

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

33 + = 37