لاہور میں اغوا کے بعد بازیاب ہونے والی میٹرک کی طالبہ کا اہم انکشاف

لاہور کے علاقہ شاد باغ سے 2 روز قبل اغوا ہونے والی 10 ویں جماعت کی طالبہ نے بازیاب ہونے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ اغوا کے بعدملزم عابد اسے پاکپتن لے گیا اور زبردستی شادی کرنے کی کوشش کی۔ جب میں نے شادی سے انکار کیا تو مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

عشا ذوالفقار کا کہنا تھا کہ مجھے عابد یا اس کے کسی ساتھی نے زیادتی کا نشانہ نہیں بنایااور نہ ہی ایسا کچھ کرنے کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا۔ ملزم عابد مجھے ہفتے کے روز اغوا کے بعد ہی قصور لے گیا تھا،جہاں پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی ملزمان مجھے پاکپتن لے گیا۔ عشا ذوالفقار نے بتایا کہ ملزمان رات گئے مجھے عارف والا کے بس سٹینڈ پر چھوڑ گئے جہاں پولیس نے مجھےتحویل میں کیا۔

دوسری جانب پولیس واقعے میں ملوث ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے جبکہ مرکزی ملزم عابد کی باضابطہ گرفتاری سامنے نہیں آئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 20 سالہ ملزم عابد ڈکیتی سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ وہ پہلے بھی کئی بار جیل جا چکا ہے۔ اس کے خلاف تھانہ شادباغ میں مزید تین مقدمات درج ہیں جبکہ وہ ڈکیتی سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے بچی کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

+ 48 = 56