سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کون سی نایاب بیماری میں مبتلا ہیں ؟

پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف کی موت کی افواہیں 10 جون کو سوشل میڈیا پر سنی گئی ۔جس کے بعد ان کے خاندان کے فرد نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے ٹوئٹر پر وضاحت جاری کی تھی کہ انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیا گیا البتہ وہ گزشتہ کچھ دنوں سے علیل ہیں جس کے باعث انہیں اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں متحدہ عرب امارات کے ایک اسپتال میں 3 ہفتے قبل منتقل کیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابق آرمی چیف انتہائی علیل ہیں جو کہ (امائلائیڈوسس) Amyloidosis کی پیچیدگی کی وجہ سے علیل ہیں اور ان کےاعضاء خراب ہو رہے ہیں۔ ٹوئٹ میں ان کی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی گئی تھی ۔

78 سالہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف گزشتہ ایک دھائی سے دوبئی میں مقیم ہیں جبکہ اس بیماری کے متعلق تشخیص 2018 میں ہوئی تھی۔

(امائلائیڈوسس) Amyloidosis ہے کیا؟

پرویز مشرف کے خاندان کے مطابق وہ امائلائیڈوسس نامی بیماری میں مبتلاہیں ۔برطانوی ادارے این ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق امائلائیڈوسس نامی بیماری میں مبتلا مریض کے اعضا جسم میں غیر معمولی پروٹین (ایمالائیڈ)بنانا شروع کر دیتے ہیں جس کے باعث اعضا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق یہ پروٹین (ایمالائیڈ) خوراک یا کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں جیناتی تبدیلوں کے باعث بننا شروع ہوتے ہیں جس کے عمل کو ختم کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی انہیں جسم سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔پروٹین (ایمالائیڈ) خاص طور پر گردوں ، دل ، جگر،تلی ،معدے اور ریڑھ کی ہڈی (بون میرو)میں بنتے ہیں جو اعضاء کو براہ راست متاثر کرتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق پروٹین (ایمالائیڈ) دل میں پیدا ہونے کے باعث دل کے پٹھوں کو سخت کرنے کا سبب بنتے ہیں جبکہ گردوں میں اس بیماری کے سبب فیلیئر ہو سکتا ہے۔

(امائلائیڈوسس) Amyloidosis کا علاج؟

برطانوی ادارے این ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق اس بیماری کا کوئی علاج نہیں البتہ کیمیو تھراپی یا ادویات کی بدولت پروٹین (ایمالائیڈ) کو اعضاء میں جمع ہونے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

+ 39 = 49