یوم شہدائےکشمیر،ایک اذان کو مکمل کرنے والے 22 کشمیریوں کی شہادت کو88 سال بیت گئے

آج مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے کشمیری اور مسلمان یوم شہدائے کشمیر انتہائی جوش و جزبے اور عقیدت سے منا رہیں ہے۔

آج سے 88 برس پہلے 13 جولائی 1931 میں ڈوگرا راج کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے والے 22 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ 88 برس بیت جانے کے بعد بھی کشمیری اپنے شہدا کی عظیم قربانی کو آج بھی یاد رکھے ہوئے ہیں ۔

اس حوالے سے آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنماؤں کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ مساجد اور دیگر تقریبات میں شہدا کی قربانی کو خراج عقید ت پیش کیا گیا اور ان کے درجات کے لیے خصو صی دعائیں بھی کی گئیں ۔

یاد رہے کہ آج سے 88 برس قبل مقبوضہ کشمیر میں سری نگر جیل کے باہر ڈوگرا راج کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری مسلمانوں میں سے ایک نے اذان ظہر کے وقت اٹھ کراذان دینا شروع کی تو ڈوگرا افواج کے سپاہیوں نےفائرنگ کرتے ہوئے کشمیری کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد شہادت کے جذبے سے سرشار اگلے مسلمان نوجوان نےاذان کو جاری رکھنے کے لیے با آواز بلند اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ اس طرح اذان کے 17 کلمات کہنے کے لیے22 کشمیری نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اذان کو مکمل کیا۔

کشمیری نوجوانوں کی اس عظیم بہادری اور تاریخی قربانی کو آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے جہاں غیور مسلمانوں نے آزادی اور دین اسلام پر مر مٹنے کی ایک عظیم مثال قائم کی ۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

− 1 = 1