پرویز الٰہی کا سیاسی سفر،پاکستان کا واحد ڈپٹی وزیر اعظم

چوہدری پرویز الٰہی کا خاندان جن کی تیسری نسل آج سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔

گجرات سے تعلق رکھنے والے چوہدری بردران جو کہ پاکستان اورخصوصاً پنجاب کی سیاست میں ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں ،قیام پاکستان کے وقت سے پاکستان کی سیاست کا حصہ رہنے والےچند خاندانوں میں سے ایک چوہدری بردران کا خاندان ہے جس کی بنیاد چوہدری ظہور الٰہی نے 1960 کی دہائی میں سیاست میں عملی طورپر قدم رکھنے کے بعد کیا۔ذوالفقارعلی بھٹو کے بعدوہ پہلی باروفاقی وزیر بنے اور 1981 میں انہیں قتل کر دیا گیا۔

ظہور الٰہی کے بعد پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے چوہدری شجاعت اور بھتیجے چوہدری پرویز الٰہی نے سنبھالی ۔

پرویز الٰہی نے 1983میں ڈسٹرکٹ کونسل گجرات کےچیئرمین منتخب ہو کر عملی سیاست کا آغاز کیا اس کے بعد 88،85 اور 90 کے انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے ۔اس دوران پرویز الٰہی لوکل گورنمنٹ اور رورل ڈویلپمنٹ کے صوبائی وزیر بنے۔

چوہدری بردارن کوخصوصی طور پر 90 کی دہانی میں مسلم لیگ (ن ) میں ایک مرکزی حثیت حاصل تھی اور انہیں مسلم لیگ (ن) کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔

1993سے 1996 تک شہباز شریف کی جلا وطنی کے دوران بے نظیر کے دور حکومت میں پرویز الٰہی نےپنجا ب اسمبلی میں عبوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی حثیت سے خدمات سر انجام دیں ۔اس دوران ان پر مقدمات بھی قائم ہوئے اور انہیں کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں قید بھی کیا گیا۔

1997میں شہباز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے بعد ان سے شریف برادران کے ساتھ اختلافات پہلی بار سامنے آئے لیکن انہوں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ قبول کر لیا۔

پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ق) کی بنیاد رکھی اور 2007 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔

2008 انتخابات میں پہلی بار پرویز الٰہی ایم این اے منتخب ہوئے اور ساتویں بار ایم پی اے کا الیکشن جیتے۔2008 کے انتخابات میں پارٹی کی جانب سے انہیں وزیر اعظم کا امید روار منتخب کیا گیا۔

2008 کےانتخابات میں (ق) لیگ بعد میں پیپلز پارٹی اتحاد میں شامل ہو گئی ۔یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں پرویز الٰہی دفاعی پیدوار اور صنعت کے وزیر رہے۔2011 میں تاریخ میں پہلی بار ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ تخلیق کیا گیا اور پرویز الٰہی پہلی بار ڈپٹی وزیر اعظم بنے۔

2013کے عام انتخابات میں پرویز الٰہی پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ اس کے بعد 2018 میں وہ ایم پی اے بنے اور تحریک انصاف کے اتحادی ہونے ی حثیت سے انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب کیا گیا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

80 + = 84