مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی کا مطالبہ کر دیا –

کراچی (نیوز الرٹ رپورٹ) پاک سر زمین پارٹی کے رہنما سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلقات کا اعتراف کیا، اب وقت آ گیا ہے کہرا کے حوالے سے الزامات پر حکومت مضبوط موقف اپنائے اور اس معاملے کو مذاق نہ بنایا جائے اورایسی تنظیم پر فوری پابندی لگائی جائے ۔ حکومت بتا دے اگر وہ اس مسئلے پر کچھ نہیں کرنا چاہتی تو ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو حیدر آباد اور میر پور خاص کے دورے پر روانگی سے قبل پاکستان ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ انیس احمد قائم خانی، انیس ایڈووکیٹ، رضا ہارون ، افتخار عالم، بلقیس مختار و دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔ مصطفی کمال نے کہا کہ برطانوی سفارتکار شہر یار نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے را کے ایجنٹ ہونے کے بارے میں میڈیا پر سب کچھ کھل کر بتایا ہے اور الطاف حسین کے ساتھ چار پانچ لوگوں کاذکر کیا ہے ۔ انہوں نے دبئی میں 2012 میں ہونے والی ایک میٹنگ کے بارے میں بھی بتایا، جس میں طارق میر، محمد انور، جس میں ‘‘را’’ کے حوالے سے تمام باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کو الطاف حسین کے ‘‘را’’ کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ اگر اتنے ثبوت مل جانے کے باوجود ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور 20 برس سے یہ جماعت آزادی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے اور ان پر پابندی عائد نہیں کی جاتی تو پھر ہمیں بتا دیا جائے ہم بھی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔ مصطفی کمال نے کہا کہ فاروق ستار جوڈیشل کمیشن کے قیام کی کس طرح سے بات کر رہے ہیں ، وہ تو بھارتی ایجنٹ کے ایجنٹ ہیں، ایم کیو ایم کی ڈوبتی کشتی کو جھوٹ بول کر نہ بچایا جائے ، ایم کیو ایم کے کارکن ان کی باتوں میں نہ آئیں ، انہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ الطاف حسین اور ندیم نصرت اپنے ہی لوگوں کو مروانے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھروں سے روپوش ہونے والے ہزاروں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ایک موقع بہتر زندگی گزارنے کے لئے دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ 24اپریل کے جلسے کی تیاریوں کے حوالے سے حیدر آباد اور میر پور خاص کے دورے پر جا رہے ہیں اور وہاں مختلف برادریوں کے افراد سے ملاقاتیں کریں گے –

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

85 − = 76