گاڑی الٹنا حادثہ تھا اسے سازش نہیں سمجھنا چاہیے، ڈاکٹر فاروق ستار

کراچی(ویب ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا جس کے بعد وہ گھر منتقل ہوگئے ہیں تاہم ڈاکٹروں نے انہیں ایک ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہےکہ میری گاڑی الٹنا ایک حادثہ تھا اسے سازش نہیں سمجھنا چاہیے۔ڈاکٹر فاروق ستار اسپتال سے چھٹی ملنے کےبعد گھر منتقل ہوگئے ہیں جہاں اپنی رہائش گاہ پہنچنے پر پارٹی کارکنان کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا، فاروق ستار پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور گلدستے پیش کیے گئے۔اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گاڑی کی اتنی قلابازیوں کے بعد زندگی کا بچنا اور کم سے کم نقصان ہونا، یہ میری اس سے بڑی عیدی نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندگی دی جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے جب کہ میرے 4 ساتھی بھی زخمی ہوئے جو تیزی سے روبہ صحت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بیٹیوں، بہنوں اور بھائیوں کی دعائیں جس طرح شامل رہیں اور جیسے ہی خبر چلی لوگ جس طرح فکر مند رہے اور مسلسل دعا کرتے رہے ان کی دعاؤں کا حق ادا کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔فاروق ستار نے کہا کہ مشکل گھڑی میں یاد رکھنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میرے گرد دعاؤں کا حصار رہا، اللہ نے آزمائش میں ڈالا اور پھر نکالا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے دوستوں کا بھی جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں جس پر ان کا شکرگزار ہوں، لیاقت نیشنل اسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹرز سمیت ہر ایک کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے جس طرح میری اور ساتھیوں کی دیکھ بھال کی میرے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رشید گوڈیل کے حادثے کے وقت جس طرح ٹریٹ کیا گیا اس کو دیکھتے ہوئے لیاقت نیشنل جانے کا فیصلہ کیا، اللہ کا کرم ہے میری ساری ہڈیاں اور اعضاء محفوظ رہے، جوڑوں اور پٹھوں پر ضرب آئی ہے جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجائیں گے۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مجھے فون کیے اور رابطے کرکے خیریت دریافت کی اس پر سب کا شکر گزار ہوں۔ فاروق ستار نے بتایا کہ وزیراعظم نے فون کیا، ڈی جی رینجز اور کور کمانڈر کی طرف سے ان کے کمانڈر آئے جنہوں نے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا، پیپلزپارٹی، (ن) لیگ، جماعت اسلامی، وزیرعلیٰ سندھ نے بھی خیریت دریافت کی جب کہ پرویز مشرف نے بھی دبئی سے فون پر خیریت پوچھی، اس کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آئے ان سب کا شکر گزار ہوں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے، جتنا آرام کرسکا کروں گا لیکن سیاسی سرگرمیاں فی الفور شروع ہوجائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اطلاعات ملیں کہ ٹوئٹر اور دیگر ذرائع سے الطاف حسین نے بھی دعائیں بھیجیں اورخیریت دریافت کی، مجھے بتایا گیا کہ ندیم نصرت نے بھی دعا بھیجیں تاہم میرا ذاتی طور پر کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فون نہیں آیا، ہزاروں فون آئے میں فون اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اعتماد کو اتنا کمزور نہیں کرنا چاہیے کہ ہر چیز میں سازش کا ہاتھ کا ڈھونڈیں، اسی لیے پہلے ہی کہا تھا یہ حادثہ ہے اسے حادثہ رہنے دیا جائے۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم جمہوریت پسند اور اہم سیاسی جماعت ہے، اس نے کبھی اپنے آپ کو سیاسی برادری سے ڈس کنیکٹ نہیں کیا۔دوسری جانب لیاقت نیشنل اسپتال کراچی کے ترجمان انجم رضوی کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار کی حالت کافی بہتر ہے اور ان کے تمام ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں اس لیے انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے تاہم ماہر معالجین نے انہیں مشورہ دیاہے کہ وہ کم از کم ایک ہفتہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے گھر پر مکمل آرام کریں۔واضح رہے کہ چند روز قبل حیدر آباد سے کراچی آتےہوئے سپر ہائی وے پر فاروق ستار کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں وہ اپنے گارڈز اور ڈرائیور سمیت زخمی ہوگئے تھے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

96 − = 88