ضلع خوشاب میں قدیم تہذیب و ثقافت کے آثارِ قدیمہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے, محمد حیات شیخ

جوہرآباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ماہر آثارِ قدیمہ اور حیات آرکیالوجی سنٹر جوہرآباد کے انچارج محمد حیات شیخ نے کہا ہے کہ ضلع خوشاب میں قدیم تہذیب و ثقافت کے آثارِ قدیمہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ارکانِ اسمبلی‘ ضلعی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ وہ ضلع خوشاب میں قدیم تہذیب و ثقافت کی ریسرچ کا عمل شروع کر کے تہذیبی آثار کو محفوظ کریں۔ وہ جوہرآباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ علاقائی تہذیب و ثقافت کو کسی بھی علاقہ کی پہچان تصور کیا جاتا ہے‘ زندہ قوموں کا شیوہ ہے کہ وہ اپنی اس شناخت کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں لیکن بد قسمتی سے ضلع خوشاب کے عوام قدیم تہذیب و ثقافت کی حامل سرزمین اور تہذیبی آثار سے محروم ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ تاریخی شواہد اور اس علاقہ سے ملنے والے قدیم آثار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم سے ہی انتہائی بلند پایہ تہذیب و ثقافت کا مرکز تھا۔ ضلع خوشاب کسی دور میں سمندر تھا جہاں خشک ہونے کے بعد نمک کی کانیں اُبھر آئیں اور یہاں سے سمندری جانوروں کے فاسلز ملے ہیں۔ محمد حیات شیخ نے بتایا کہ اس علاقہ سے ملنے والا مگر مچھ کا فاسل نیچرل ہسٹری میوزیم اسلام آباد میں محفوظ ہے اس مگر مچھ کی نسل 70لاکھ سال پہلے ختم ہو چکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ سال ضلع خوشاب کے علاقہ کنہٹی کی پہاڑیوں سے ہاتھی کی ٹانگ کا فاسل بھی ملا جسے اسلام آباد میوزیم مین منتقل کیا جا چکا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شواہد کے مطابق ضلع خوشاب کے علاقہ ناڑی کے تہذیبی آثار موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے بھی قدیم ہیں جس کی تصدیق ماہرین آثارِ قدیمہ کر چکے ہیں۔محمد حیات شیخ کے مطابق خوشاب شہر میں مغلیہ دور کے دو گورنروں شاہ بیگ ارغون اور احمد یار خان برلاس کے مقبرے ‘ شیر شاہ سوری کے دور میں بنا ہوا تالاب‘ عید گاہ مسجد اور ضلع خوشاب کے مختلف مواضعات میں اسی دور کی بنائی ہوئی بائولیاں بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی سبب اپنا وجود کھو رہی ہیں۔ ماہر آثارِ قدیمہ نے بتایا کہ وادی سون میں بہت سے قلعے موجود ہیں جس میں قلعہ تلاج جہاں جلال الدین خوارزم نے قیام کیا ‘ قلعہ اکرند جسے شہاب الدین غوری نے فتح کیا انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ضلع خوشاب میں باقاعدہ طور پر ایک عجائب گھر تعمیر کیا جائے تاکہ اس ضلع کی تاریخ کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ اُنھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ علاقہ کے بااختیار لوگ اس اہم معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

1 تبصرہ

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

19 − 17 =