ڈاکوؤں کے خلاف کچا جمال میں فوجی آپریشن جاری

Army Operation

چھوٹو گینگ کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود ڈاکووں کے کئی گروہ ایسے ہیں جو جزیرے میں چھپے ہیں اور ان کی سیکورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق سیخانی لنڈ، ایندھر اور جھاکا قبیلوں کے یہ ڈاکو ابھی بھی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔
خیال رہے کہ چھوٹو گینگ نے گذشتہ روز کئی دن کے محاصرے اور فوجی کارروائی کے بعد غیرمشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا اور 24 مغوی اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا تھا۔ جس کے بعد گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کو حساس اداروں نے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں پرچیاں بھی گرائی گئی تھیں جن میں ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا تھا۔جنوبی پنجاب میں راجن پور اور رحیم یار خان کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے کئی گروہ قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت کچے کے علاقے میں ہونے والے آپریشن میں صرف فوج حصہ لے رہی ہے۔ جزیرے پر شیلنگ کی جا رہی ہے اور مارٹر گولے داغے جا رہے ہیں۔پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اعلان کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے تمام گروہوں کے ہتھیار ڈالنے تک آپریشن جاری رہے گا اور جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں موجود تمام ’نو گو ایریاز‘ ختم کردیے جائیں گے۔کچہ جمال اور کچا مورو کے علاقے میں پولیس اور فوج کی یہ کاروائی تقریباً تین ہفتے پہلے شروع کی گئی

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

13 − = 11