پاناما لیکس تحقیات کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ ,ہمارادامن صاف ہے:نواز شریف

politics

حکومت نے پاناما لیکس کے معاملہ پرچیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیاجبکہ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارادامن صاف ہے ، ماضی میں بھی کڑے احتساب سے گزرے ، اب پھر سر خرو ہونگے ۔وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی وزرا، مشیران اور معاونین کا ایک خصوصی اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران پاناما لیکس پر تحقیقات کیلئے ضابطہ کار پر بھی اتفاق کر لیا گیاجبکہ وزیراعظم نے لیگل ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ چیف جسٹس کے نام خط کا ڈرافٹ تیار کرے ،تاہم اسے بھیجنے نہ بھیجنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائیگا۔معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایک سنجیدہ تجویز سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصو ص تحریک انصاف کے مطالبہ کے پیش نظرچیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کیلئے خط لکھ دینا چاہئے ،تاکہ عمران خان کی طرف سے مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں بڑی تحریک یا مارچ سے بچا جا سکے ۔اجلاس میں اس تجویز کے حامیوں کا موقف تھا کہ ممکنہ طور پر سپریم کورٹ اس معا ملہ میں نہیں پڑیگی اور تحقیقات سے انکار کر دیگی،اس طرح حکومت سرخرو ہوجائیگی اورپھر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن یا پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی قائم کر دی جائیگی۔مزیدبتایاگیاکہ چیف جسٹس کوخط لکھنے کے حوالے سے اگرچہ حتمی فیصلہ نہیں ہواتاہم وزیراعظم نے لیگل ٹیم کواپناہوم ورک مکمل رکھنے کی ہدایت کی،خیال رہے کہ حکومت کی لیگل ٹیم میں وفاقی وزرا زاہد حامد، انوشہ رحمن، بیر سٹرظفراللہ خان اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف شامل ہیں۔دریں اثنااجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کاکہناتھا آج کا پاکستان3سال پہلے کے پاکستان سے کہیں آگے ہے جس کا پوری دنیا اعتراف بھی کررہی ہے ،ہم پاکستان کو مسائل کی اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں جو برسوں سے درپیش ہے اور جس کی وجہ سے ہم دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ،2018 تک توانائی کے بیشتر منصوبے اتنی پیداوار دینے لگیں گے کہ ملک لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کر لے گا،ہمارا دامن صاف ہے اورہم ماضی میں بھی کڑے سے کڑے انتقامی احتساب سے سرخرو ہو کر گزرے ،آئندہ بھی ایساہی ہوگا،ہمارے مخالفین کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ اگر حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کرلی تو وہ سیاست کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائینگے ،ملکی استحکام اور تعمیر و ترقی کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑنے دینگے ،حکومت سی پیک سمیت توانائی کے دیگرمنصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنائیگی جبکہ عدم استحکام پیدا کر کے عوام کی ترقی و خوشحالی کی راہ روکنے والے کل بھی ناکام رہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہونگے ۔مزیدبرآں وزیراعظم سے اطالوی وزیرخارجہ پاولو جینیٹی لیونی نے ملاقات کی،اس دوران نوازشریف کاکہناتھادہشتگردی کسی طور برداشت نہیں، خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی ترتیب دی اورآپریشن’ضرب عضب‘شروع کیا جبکہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا،ہم توانائی کے مسئلہ پر قابو پانے کیلئے مضبوط قومی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دنیانیوز کے پروگرام کامران خا ن کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راحیل کا احتساب کے حوالے سے اقدام خوش آئند ہے اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ،احتساب پر کسی کو اعتراض نہیں تاہم سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کرپشن کے خلاف شفاف تحقیقات ہمارے منشور کا حصہ ہے ،گڈ گورننس پر یقین رکھتے ہیں ۔ پانامالیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل کے لئے نوٹیفکیشن کامسودہ تیار ہے ،اپوزیشن سے اتفاق رائے کے بعد صرف ججز کے نام لکھنے باقی ہیں ،اس حوالے سے وزیراعظم نے کابینہ سے بھی رائے لے لی ہے ۔انہوں نے کہا پاناما لیکس میں وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کا نام نہیں ہے ، نواز شریف کے بیٹے تمام چیزیں لے کر کمیشن کے سامنے پیش ہو جائیں گے ،پاناما لیکس کی شفاف تحقیقات ہوں گی تو عوام کا اعتماد بڑھے گا ۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

63 − = 58