جن لوگوں کے گھروں میں پالتو بلی موجود ہو اُن کے اندر یہ خطرناک جنسی تبدیلی آسکتی ہے

پراگ (ویب ڈیسک) پیاری پیاری پالتو بلیاں معصومیت کی علامت ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انسان ان میں بہت دلکشی محسوس کرتے ہیں، مگر سائنسدانوں نے یہ انکشاف کرکے سب کو پریشان کر دیا ہے کہ بلیوں کی وجہ سے انسان میں شدت پسند جنسی رویہ جنم لے سکتا ہے۔ یہ دلچسپ و عجیب تحقیق سلوواکیا اور چیک ری پبلک کے سائنسدانوں نے کی ہے، جس کے دوران 36ہزار سے زائد لوگوں کے جنسی رویے کے متعلق معلومات جمع کی گئیں۔ سائنسی جریدے ایوولوشنری سائیکالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلیوں میں ٹوکسو پلاسموسس گونڈائی نامی جراثیم پائے جاتے ہیں جو انسانوں میں منتقل ہوکر ان کے دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے جنسی رویے کو تبدیل کردیتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس جراثیم کی وجہ سے انسان جنسی شدت پسندی میں دلچسپی محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ناصرف جنسی تعلق کے دوران ایذاءرسانی کو پسند کرتا ہے بلکہ خود کو بھی تکلیف دہ جنس کی جانب مائل محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جراثیم کے شکار افراد جنسی تعلق کے دوران اپنے ساتھی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اور ان میں جنسی زیادتی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا کہ جن چوہوں کے دماغ پر یہ جراثیم اثر انداز ہو جائے وہ بلیوں میں جنسی کشش محسوس کرنے لگتے ہیں اور یوں خود چل کر موت کے منہ میں جاتے ہیں۔ اس جراثیم سے متاثر ہونے والی خواتین جسمانی تعلقات میں تشدد پسند ہوجاتی ہیں اور جانوروں کے لئے بھی جنسی کشش محسوس کرنے لگتی ہیں، جبکہ اس کے شکار مرد جسمانی تعلق میں تشدد کرنے اور جبری تعلق استوار کرنے جیسے رویے کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ جاروسلاف فلیجر نے بتایا کہ یہ جرثومہ دماغ کے عصبی خلیات کو متاثر کرکے جنس اور خوف کے محرکات کا فرق مٹادیتا ہے، جس کی وجہ سے خوف پیدا کرنے والے محرکات بھی جنسی محرکات کی طرح ہی دلکش نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

1 + 9 =