الزامات ثابت ہوئے تو گھر چلا جاؤں گا، وزیراعظم کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا وطن کی مٹی سے مجھے عشق ہے عوام نے اعتماد کر کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بنایا۔ سیاست میں قدم رکھے کم و بیش مجھے 30 برس ہو چکے ہیں جب مجھے پاکستان سے جلا وطن کیا گیا وہ سب سے تکلیف دہ وقت تھا۔ انہوں نے کہا میری ذات پر کسی قسم کا الزام نہیں اقتدار کی ہوس میں ملک کو غیرمستحکم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا خود کو اور اپنے پورے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں۔ ہمارے تمام اثاثوں کی تفصیل انکم ٹیکس کے گوشواروں کی صورت میں موجود ہیں۔ اس وقت سے ٹیکس دے رہے ہیں جب کچھ لوگوں کو ہجے بھی نہیں آتے تھے۔ جھوٹ کو ووٹ کی طاقت سے شکست دی اور پاناما لیکس الزامات پر مشرف دور میں بھی تحقیقات ہو چکی ہیں اگر پاناما لیکس کا الزام سچ ثابت ہوا تو گھر چلا جاؤں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا میڈیا کے نمائندوں اور دوستوں سے درخواست ہے کہ کوئی بھی الزام نشر کرنے سے پہلے اس کی جانچ کریں۔ ابھی تو کمیشن قائم نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنی عدالت لگا کر فیصلہ بھی سُنا دیا۔ کیا الزام لگانے والے خود اپنے لیے ایسا انصاف پسند کریں گے؟ ۔ ان کا اپنے خطاب میں یہ بھی کہنا تھا جب ہمیں جلا وطن کیا گیا، تو کسی نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا گیا۔ فوجی آمر کے پیچھے وزارت عظمیٰ کا پروانہ پکڑ کر کون کھڑا تھا؟۔ ہم سے پائی پائی کا حساب لیا گیا اور آئندہ بھی حساب دیں گے۔ ہماری حکومت کرپشن کے خاتمے پر یقین رکھتی ہے۔ پاناما لیکس پر تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خظاب میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے آج قانون کی بالادستی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ کنٹینر پر استعمال کی گئی بازاری زبان کے عوام گواہ ہیں ۔ دھرنے کے دوران ملک کو جو اربوں اور کھربوں کا نقصان ہوا اس کا حساب کون دے گا؟۔ الزام لگانے والوں نے جرات دکھائی کہ قوم سے معافی مانگیں۔ دکھ ہے قوم کا قیمتی وقت ضائع کیا گیا جو ناقابل معافی جرم ہے۔ جن لوگوں کا کوئی کاروبار نہیں پھر بھی ہوائی جہازوں میں پھرتے ہیں حساب کون دے گا؟۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کچھ لوگ ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہیں لیکن ان لوگوں کو اپنی شکست دیوار پر لکھی نظر آ رہی ہے۔ ہماری حکومت جب اپنے 5 سال پورے کرے گی معاشی ترقی کے ثمرات ہم عوام تک پہنچانے کے قابل ہو گئے ہونگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں اور اس کمیشن کی سفارشات قبول کروں گا۔ اگر الزامات ثابت نہ ہوئے تو کیا پراپیگنڈہ کرنے والے معافی مانگیں گے؟

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

67 + = 68