کتب بینی کے فروغ سے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے ، صدر پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ کتب بینی کے کلچر کے فروغ سے انتہا پسند سوچ اور علمی و ادبی انحطاط جیسے مسائل سے دوچار معاشرے کی اصلاح کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے یہ بات نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ساتویں سالانہ کتب میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر نے کہا کہ کوئی بھی قوم علم اور تحقیق کے ذریعے عظمت کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے اور ابن خلدون، بو علی سینا اور ابن رشد جیسے اعلیٰ پایہ کے دانشور پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ انسانیت کی ہدایت کے لئے کتاب کو ذریعہ بنایا گیا، کتاب سے تعلق فطری اور مضبوط ہے ۔ مسلمانوں کا کتاب سے یہی رشتہ تھا جس کی بدولت دنیا میں ان کو قیادت ملی۔ تاریخ بتاتی ہے جس قوم نے علم سے ناطہ جوڑا، اسے ترقی اور احترام ملا۔ ہمیں بھی علم و ادب اور تحقیق کو ذریعہ بنانا چاہئے ۔ انٹرنیٹ پر سافٹ لائبریریز کے قیام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بالخصوص نوجوانوں کی ان تک زیادہ سے زیادہ رسائی ہو۔ کتب میلہ کے انعقاد سے قارئین کو کتب کے ساتھ تعلق مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن پر زور دیا کہ دنیا بھر سے معیاری کتب کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی اشاعت کا اہتمام کریں تاکہ ارزاں نرخوں پر ان تک بآسانی رسائی ہو۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

6 + 4 =