مشیر وزیر اعلیٰ کے پی کےسردار سورن سنگھ فائرنگ سے ہلاک

بونیر(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر بونیر میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور اور رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کو ہلاک کر دیا ہے ۔بونیر سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ بونیر کے علاقے پیر بانا میں سردار سورن سنگھ کا آبائی مکان ہے۔ جمعے کو شام کے وقت وہ اپنے گھر کی لی میں جا رہے تھے کہ اس دوران نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔پولیس کے مطابق سورن سنگھ کو ایک ہی گولی آنکھ کے قریب ماتھے پر لگی ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ سورن سنگھ کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔بونیر کے ضلعی پولیس افسر خالد محمود ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سردار سورن سنگھ اپنے گاؤں پیر بابا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے جس کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیر میں لے لیا اور ضلع کے اندر داخلی اور خارجی راستے بند کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی ہےان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔سردار سورن سنگھ پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی تھے اور اس کے علاوہ ان کے پاس وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور کا قلمندان بھی تھا۔سورن سنگھ نے سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ وہ سکھ برادی کے اہم رکن تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے انھوں نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔پیشے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر تھے اور اس کے علاوہ پشتو زبان کی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر کے لیے وہ تین سال تک ایک پروگرام کی میزبانی کرتے رہے جس کا نام تھا ’زہ ہم پاکستانی یم‘ جس کا مطلب ہے میں بھی پاکستانی ہوں۔31 مارچ کو اندرون پشاور شہر ہشتنگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ اس میں مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

+ 55 = 56