اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

1,071,303FansLike
10,017FollowersFollow
590,500FollowersFollow
217,388SubscribersSubscribe

اسسٹنٹ ایڈوائزر وفاقی محتسب کی قیادت میں ٹیم کا نادرا آفس کا دورہ

اسسٹنٹ ایڈوائزر وفاقی محتسب کی قیادت میں ٹیم کا نادرا آفس کا دورہ۔

تفصیلات کے مطابق محمد واصف سلیم اسسٹنٹ ایڈوائزر اصغر علی اعوان، اسسٹنٹ رجسٹرار پر مشتمل انسپکشن ٹیم نے نادرا آفس، گوجرانوالہ کی انسپکشن کی۔

اس سلسلے میں انہوں نے وہاں پر موجود آفس انچارج اور زونل ہیڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عفیفہ اور شفٹ انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی بٹ سے تفصیلی گفتگو کی اور نادرا آفس کی ورکنگ کے بارے میں تمام معلومات حاصل کیں۔

انہوں نے بتایا کہ نادرا آفس 24/7 کھلا ہوتا ہے روزانہ تقریباً تین ہزار لوگ نادرا آفس آتے ہیں اور تقریباً 1600 ٹوکن روز لگتے ہیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ 24 کاونٹر آپریشنل ہیں اور ایک ٹائم پہ 24 لوگ پراسیس ہوتے ہیں اور لوگوں کو اپنی باری کے لئے 5 سے 7 منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بزرگ، مریض اور معذور لوگوں کے لئے 6 کاونٹر ہیں اور تین ویل چیئرز موجود ہیں۔

دوران عدت یا پردہ دار عورتوں کے لیے 2 الگ کاونٹر ہیں جو ضرورت کے وقت آپریشنل ہوتے ہیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ لوگ بہت تعاون کرتے ہیں لیکن بعض دفعہ کچھ کیسز میں مزید ڈاکومنٹس مانگنے پر لوگ ناراض ہوتے ہیں۔

latest urdu news

انہوں نے مزید کہا کہ بعض کیسز میں لوگوں کے دو شناختی کارڈ بنے ہوتے ہیں اور ایک شناختی کارڈ کینسل کرنے پہ دس ہزار جرمانہ ہوتا ہے لیکن لوگ اسے ادا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 90 فیصد کیسز میں دو شناختی کارڈ لوگوں کی اپنی غلطی سے بنتے ہیں لیکن ہم ہر حال میں لوگوں کو ریلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے بعد محمد واصف سلیم نے پورے نادرا آفس کا جائزہ لیا اور لوگوں سے ان کے مسائل پوچھے۔

لوگ نادرا آفس سے کافی مطمئن نظر آئے اور لوگوں نے کہا ہمیں انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا اور ہمارا کام اچھے طریقے سے ہو جاتا ہے۔

نادرا آفس میں عورتوں اور مردوں کے لیے بیٹھنے کا الگ اور وسیع بندوبست ہے۔

پورے آفس کے وزٹ کے بعد محمد واصف سلیم نے نادرا آفس کی کارکردگی پہ اطمینان کا اظہار کیا۔

انسپکشن کے بعد جناب محمد واصف سلیم نے وہاں موجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگر افسران کو ہدایت دی کہ لوگوں کے جو بھی مسائل ہوں اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

اس موقع پر موجود لوگوں نے کہا کہ ایسے دورے جاری رہنے چاہیے کیوں کہ اس سے عام لوگوں کے مسائل اعلی افسران تک پہنچ جاتے ہیں اور لوگوں کی مشکلات میں کمی ہوتی ہے۔

latest urdu news