اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

1,073,563FansLike
10,013FollowersFollow
592,200FollowersFollow
217,388SubscribersSubscribe

کتےکو جان سے مارنے پر پولیس اہلکار سمیت 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

کراچی کی عدالت نے کتےکو جان سے مارنے پر پولیس اہلکار سمیت 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی کا مکین 60 سالہ ریاض حسین سرکاری پارک کے باہر چھوٹا سے ٹھیلہ لگا کر بچوں کا گزر بسر کرتا ہے ، ایک خاتون جو بیرون ملک جا رہی تھی اس نے ریاض حسین کو 2 سال قبل جو جی نامی ایک پالتو کتا بطور تحفہ دیا۔

ریاض حسین کا کہنا ہے کہ انکی پڑوسیوں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جسکے بعد 9 فروری 2023کو چند افراد نے رات کے آخری پہر جوجی کا منہ بند کر کے اسے اغوا کر لیا، اور پھر اسکی لاش 12 فروری کو کچرا کنڈی سے ملی۔

ریاض حسین کا کہنا تھا کہ اس نے جوجی (کتے ) کو اپنے بچوں کی طرح پالا تھا ، اس لیے اس نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاہے، ریاض حسین نے مقدمے کے اندراج کے لیے فیروز آباد تھانے کی پولیس سے رجوع کیا۔

ریاض حسین کا کہنا تھا”پولیس روایتی طور پر ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ،اور اسکا مذاق اڑاتی رہی“ لیکن اس نے ہمت نہ ہاری، مقدمے کے اندراج کیلئے ریاض حسین نے سیشن جج شرقی کی عدالت نے ملزمان پولیس اہلکار علی حسن سمیت 5 ملزمان مصطفیٰ، علی ، وحید اور خالد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

ریاض حسین کے وکیل علی رضا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام طور پر جانوروں کے حقوق کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں ، اس جدید دور میں بھی پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے نام پر 2 صدیوں پرانا برطانوی دور کا 1890کا پریوینشن آف کریولٹی ایکٹ نافذ ہے۔

قانون کے تحت کسی شخص یا جانور کو تکلیف دینا ، اس کو قتل کرنا قانوناََ جرم ہے اور یہ جرم ثابت ہونے پر اس شخص پر 2 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔