اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

1,071,158FansLike
10,017FollowersFollow
590,500FollowersFollow
217,388SubscribersSubscribe

محمد احمد شاہ کی الیکشن اور امن و امان کی صورتحال پر اہم پریس کانفرنس

کراچی: الیکشن اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد سندھ اسمبلی میں کیا گیا۔

پریس کانفرنس سے نگران صوبائی وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے ابہام تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔

کور کمانڈرز اور الیکشن کمیشن کی میٹنگز منعقد کی گئیں۔ تمام صوبوں کی حکومتیں مکمل طور پر الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ 8فروری کو الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ پانچ فروری سے دس فروری تک حساس پولنگ اسٹیشنز پر افوج پاکستان تعینات رہے گی۔

پاکستان کو تباہ کرنیوالے مکافات عمل کا شکار ہیں، مولانا فضل الرحمان

الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق جن تیاریوں کی ضرورت ہے اس پر عملدرآمد کرایا جا رہا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر پریزائڈنگ آفیسرز گھر نہیں جائیں گے۔ پولنگ اسٹیشنز پر تعینات عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

حکومت سندھ نے ہر قسم کی ضروریات کے لیے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور افواج پاکستان بھی موجود ہو گی۔

پولنگ اسٹیشنز کی ٹوٹل تعداد انیس ہزار چھ ہیں۔ جس میں نارمل پولنگ اسٹیشنز پانچ ہزار نو سو اناسی ہیں۔حساس پولنگ اسٹیشنز چھ ہزار پانچ سو اکتیس ہیں۔ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز چھ ہزار چار سو چھیانوے ہیں۔

الیکشن ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونیوالے 267 سرکاری ملازمین کے وارنٹ گرفتاری جاری

پولیس کے ایک لاکھ بائیس ہزار تیس اہلکار ہیں۔ پولیس کوئیک ری ایکشن فورس سات ہزار ہوں گے۔ پانچ سو پچاس اہلکار ایکسائز پولیس کے ہوں گے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز بائیس ہزار آٹھ سو ستر ہوں گی۔ ڈیڑھ ارب روپے کا فنڈ تین سو چھیاسی اسکولز جو سیلاب سے متاثر ہوئے ان کے لیے جاری کیا ہے۔

چھ ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گیے ہیں۔ اگر کوئی خراب صورت حال ہوتی ہے تو ڈیٹا محفوظ ہو گا۔ کمپیوٹر اور وائر لیس سسٹم بھی لگا دیے گیے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات محمد احمد شاہ نے مزید کہا کہ میڈیا کو جو معلومات ملتی ہے وہ حساس اداروں کو بھی ملتی ہے۔ کئی ماہ سے امن و امان کی بہتری کے لیے کام ہورہا ہے۔ سیکورٹی کی منصوبہ بندی کی گئی اور بیک اپ پلان بھی بنایا گیا ہے۔ تمام ادارے اور حکومت الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پہلے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی تھی۔

عمران خان کیساتھ جو ظلم ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، حامد خان

جو الیکشن میں نیشنل ڈیوٹی پر نہیں جائیں گے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور میں درخواست کرتا ہوں کہ الیکشن میں تعاون کریں۔

دفعہ 144 نافذ ہوچکی ہے۔ موبائل سروس الیکشن کے دن بند نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں صورتحال کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ کرنا ہوا تو دیکھیں گے۔ پاکستان کے دشمن اندرونی اور بیرونی طور پر ہر طرح سے کوشش کر رہے ہیں کہ حالات خراب ہوں۔