اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

1,071,158FansLike
10,017FollowersFollow
590,500FollowersFollow
217,388SubscribersSubscribe

بجٹ:دفاع کیلئے 1804اورترقیاتی پروگرام کیلئے 1150ارب کی منظوری

مالی سال 2023-24 کے لیے 14 ہزار 6 ارب روپے کا 6 ہزار ارب خسارے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، بجٹ میں 700 ارب کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جب کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

خبروں کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دی جاری ہے۔

ترقیاتی بجٹ

اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 1150 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی جس میں انفرا اسٹرکچر کے لیے 491.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دفاع

دفاع کی مد میں 1804 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں ڈالرز کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے سبب خاطر خواہ اضافہ نہ کیا جاسکا، دفاعی بجٹ تینوں مسلح افواج کے علاوہ وزارت دفاع، دفاعی پیداوار، ذیلی اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

گزشتہ سال دفاعی بجٹ 1530 ارب روپے مختص کیا گیا تھا تاہم اس بار روپے کی قدر کی مناسبت سے دفاعی بجٹ بہت کم رکھا گیا ہے۔ جاری مالی سال2022-23 میں مسلح افواج نے قومی بچت مہم میں حصہ لیتے ہوئے اپنے کئی اخراجات کم کردیے تھے۔

صحت و تعلیم

کابینہ نے سماجی شعبے کی ترقی کے لیے 241.2 ارب روپے، صحت کے شعبے کے لیے 22.8 ارب روپے، تعلیم کے شعبے اور اعلی تعلیم کے لئے 81.9 ارب روپے، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے پروگراموں کے لیے 90 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

تنخواہیں اور پنشن

کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا معاملہ زیر بحث آیا جس کے لیے تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔