اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

957,416FansLike
10,004FollowersFollow
575,400FollowersFollow
200,591SubscribersSubscribe

سپریم کورٹ کے پاس انصاف کا مکمل اختیار ہے،چیف جسٹس

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بھارت میں بھی آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں براہِ راست نظرِ ثانی کی اپیل کا حق نہیں۔

سماعت کے آغاز میں اٹارنی جنرل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے ہیں۔ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرِ ثانی کیلئے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے۔

الزامات سے ہمارے اختیارات کم نہیں ہوں گے:چیف جسٹس

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوکر کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آہستہ آہستہ دلائل سے ہمیں سمجھائیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کے حق سے پہلے آئین لوگوں کا استحصال کرتا رہا ہے۔ ایک آئینی معاملے کیلئے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرِ ثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ حکومتی قانون سازی سے کسی کے ساتھ استحصال نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے نظر ثانی کو اپیل ہی میں کیوں تبدیل کیا؟ اتنی مبہم اور وسیع قانون سازی کیسے کر دی گئی؟ مرکزی کیس کے فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے کسی نہ کسی غلطی کی نشاندہی تو کرنا ہوگی۔ قانون سازی ضرور کریں لیکن ابہام نہ چھوڑیں، آپ مفادِ عامہ اور نظرِ ثانی کی تعریف کیوں نہیں لے کر آتے؟

چیف جسٹس اورجسٹس فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ عدالت پر چھوڑیں کہ نظرِ ثانی کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے تو ہمیں یکساں معیار طے کرنا ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کا اختیار بھی ہے، کوئی ایسا قانون دکھائیں کہ عدالت اس کیس کو مزید آگے بڑھا سکے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ پر محفوظ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔